دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

611 -[25]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَن أشق على أمتِي لأمرتهم أَنْ يُؤَخِّرُوا الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نصفه» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت پرمشقت ڈال دوں گا تو انہیں حکم دیتا کہ عشاءکوتہائی یا آدھی رات تک پیچھے کریں ۱؎ (احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

۱؎   اَوْ نِصْفِہٖ میں راوی کو شک ہے کہ حضورنے یا تہائی فرمایا یا آدھا،یہ حدیث ان احادیث کی شرح ہے جن میں اول وقت نماز پڑھنے کی ترغیب ہے،اس حدیث نے بتایا کہ وہاں اول وقت سے اول وقتِ مستحب مرادتھا۔مطلب یہ ہے کہ اگر امت پرگرانی کا خیال نہ ہوتا تو میں عشاء کی اتنی تاخیر کو فرض قراردے دیتا کہ اس سے پہلے عشاءجائز ہی نہ ہوتی،اب یہ تاخیرسنت تو ہے فرض نہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  باذنِ الٰہی احکام شرعیہ کے مالک ومختارہیں کہ بحکمِ پروردگار جوچاہیں فرض کریں جو چاہیں فرض نہ کریں۔اس کے لئے ہماری کتاب "سلطنت مصطفےٰ"دیکھو۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور امت پر ایسے رحیم وکریم ہیں کہ عبادات میں بھی امت کی راحت کا خیال رکھتے ہیں۔

612 -[26]

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ تُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے کہ اس نماز کو دیرسے پڑھاکروکیونکہ تم کو اس کی وجہ سے ساری امتوں پر بزرگی دی گئی کہ تم سے پہلے یہ نماز کسی امت نے نہ پڑھی ۱؎(ابوداؤد)

۱؎  یعنی چونکہ نمازعشاءتم ہی کو ملی ہے اس لئے اسے دیر میں پڑھاکرو تاکہ تمہیں انتظارِ نماز کا ثواب ملے اور اس کے بعد زیادہ باتوں کا وقت نہ رہے فورًا سوجایاکرو۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور کی امت ساری امتوں سے افضل ہے۔اس فضیلت کی بہت سی وجوہ ہیں:جن میں سے ایک عشاء کا ملنا بھی ہے۔خیال رہے کہ نمازعشاء ہم سے پہلے کسی امت پر فرض نہ تھی،ہاں بعض نبی بطور نفل اسے پڑھتے رہے ہیں،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں جبریل نے عرض کیا تھاکہ یہ اوقات آپ کے اور آپ سے پہلے انبیاء کی نمازوں کے وقت ہیں اور نہ اس روایت کے خلاف ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے وادی سینا سے آکر اپنی بیوی"صفوراء"کو بخیریت پاکرنمازعشاءپڑھی۔

613 -[27]

وَعَن النُّعْمَان بن بشير قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے فرمایا کہ میں اس نمازیعنی آخری عشاءکے نماز کاوقت خوب جانتا ہوں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  یہ نماز تیسری شب کے چاند ڈوب جانے پر پڑھا کرتے تھے  ۱؎ (ابوداؤد،دارمی)

۱؎   یہ وقت سردیوں میں تقریبًاساڑھے نوبجے شب بنتا ہے جیسا کہ تجربہ سے معلوم ہوا۔

614 -[28]

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَلَيْسَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ: «فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ»

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں فرمایارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فجرروشنی میں پڑھوکیونکہ اس کا ثواب بڑا ہے  ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)۲؎   اورنسائی کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ اس کا ثواب بڑا ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن