30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
605 -[19] عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ وَالْجِنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفُؤًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اے علی تین چیزوں میں دیر نہ لگاؤ نمازجب آجائے ۱؎ اورجنازہ جب تیارہوجائے اور لڑکی جب اس کا ہم قوم مل جائے۲؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی جب نماز کا وقت مستحب آجائے تودیر مت لگاؤ،لہذا یہ حدیث نہ تو حنفیوں کے خلاف ہے نہ شوافع کی تائید،نہ دوسری احادیث سے متعارض کیونکہ عشاء سب کے نزدیک دیر سے ہی پڑھناچاہئے۔
۲؎ اَیِّم اصل میں اَیْوَمْتھا واؤ،ی ہوکر ی میں مدغم ہوگیا۔اَیِّم بے خاوندوالی بالغہ عورت کو کہتے ہیں کنواری ہویابیوہ،یعنی جب لڑکی کے لئے مناسب رشتہ مل جائے تو بلاوجہ دیرمت لگاؤ کہ اس میں ہزار ہافتنہ ہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ اگر وقت مکروہ میں جنازہ آئے تب بھی اس پرنماز پڑھ لیجائے یہی حنفیوں کا مذہب ہے۔ممنوع یہ ہے کہ جنازہ پہلے تیارہومگرنمازوقت مکروہ میں پڑھی جائے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور نے سورج نکلتے،ڈوبتے اوربیچ دوپہری میں نمازجنازہ سے منع فرمایا۔
|
606 -[20] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَقْتُ الْأَوَّلُ مِنَ الصَّلَاةِ رِضْوَانُ اللَّهِ وَالْوَقْتُ الْآخَرُ عَفْوُ اللَّهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازاول وقت میں اﷲ کی خوشنودی ہے اورآخر وقت میں اﷲ کی معافی ۱؎(ترمذی) |
۱؎ اول وقت سے وقت مستحب کا اول مرادہے اورآخروقت سے وقت مکروہ مراد ہے،یعنی وقت مستحب شروع ہوتے ہی نماز پڑھ لینا رضاالٰہی کا سبب ہے اوروقت مکروہ میں نماز پڑھنا تو چاہئے یہ تھا کہ سخت گناہ ہواور نماز قضا مانی جائے مگررب نے معافی دیدی۔ہماری اس تفسیر سے یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ عشاء دیر سے پڑھو۔
|
607 -[21] وَعَن أم فَرْوَة قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يُرْوَى الْحَدِيثُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ وَهُوَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْد أهل الحَدِيث |
روایت ہے حضرت ام فروہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیاکون سا عمل بہترہے فرمایا اول وقت نماز پڑھنا ۱؎ (احمدوترمذی،ابوداؤد)ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صرف عبداﷲ ابن عمر عمری سے مروی ہے اوروہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ۲؎ |
۱؎ یعنی وقت مستحب کے اول نماز پڑھنا جیسا کہ بارہا عرض کیا جاچکا۔خیال رہے کہ بیان فضیلت میں حدیثیں مختلف ہیں۔بعض میں ہے کہ افضل عمل جہاد ہے،بعض میں ہے کہ بہترین عمل ماں باپ کی خدمت،مگران میں تعارض نہیں،کیونکہ مطلقًا افضلیت اول وقت نماز پڑھنے میں ہے،لیکن بعض ہنگامی حالات میں جہادیا خدمت والدین افضل ہوجاتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مختلف جوابات پوچھنے والوں کے لحاظ سے ہوں،کسی سے فرمایا کہ تیرے لئے جہاد افضل،کسی سے فرمایا تیرے لئے ماں باپ کی خدمت افضل،طبیب کا نسخہ مریض کی حالت کے لحاظ سے ہوتاہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع