30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اس جملے سے بہت سےفقہی مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت کے لالچ میں نمازوقت مستحب سے نہ ہٹائی جائے بلکہ اکیلے پڑھ لی جائے۔دوسرے یہ کہ اگرحاکم صحیح وقت جماعت نہ ہونے دے تو مسجدمیں یا گھرمیں اپنی نمازعلیحدہ پڑھ لے جیساکہ آج حاجیوں کونجدی حکام کی وجہ سے پیش آتا ہے۔تیسرے یہ کہ اگر ظالم حاکم کے سامنے مجبورًا کلمۂ حق نہ کہہ سکے تو گنہگارنہیں۔چوتھے یہ کہ نماز پڑھ چکنے کے بعداگرجماعت ملے تو بہ نیت نفل اس میں شریک ہوجائے مگر یہ حکم صرف ظہروعشاءمیں ہے کیونکہ فجروعصر کے بعدنفل مکروہ ہیں اورمغرب کی تین رکعتیں ہیں۔پانچویں یہ کہ اگرظالم حاکم کے ساتھ نماز نہ پڑھنے میں ایذاءاورتکلیف پہنچ جانے کا اندیشہ ہوتومجبورًا ان کے پیچھے نماز پڑھ لے مگر نماز لوٹالے جیساکہ آجکل اہلِ سنت کو حرمین شریفین میں پیش آتا ہے۔چھٹے یہ کہ نفل والے کی نمازفرض والے کے پیچھے جائزہے۔ساتویں یہ کہ اگر بادشادہ کا مقررکردہ امام بدمذہب ہو اورکوئی سچا مسلمان ان کی جماعت کے وقت وہاں پھنس جائے تومعذوری کی حالت میں یہی کرے۔
|
601 -[15] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ. وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تغرب الشَّمْس فقد أدْرك الْعَصْر» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوسورج نکلنے سے پہلے فجرکی ایک رکعت پالے اس نے فجرپالی اورجو سورج ڈوبنے سے پہلے عصرکی ایک رکعت پالے اس نے عصرپالی ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی اگرنمازفجرکے دوران میں سورج نکل آئے یاعصرکی نمازپڑھتے ہوئے آفتاب غروب ہوجائے تونماز ہوگئی۔اس کی تحقیق اگلی حدیث میں آرہی ہے۔
|
602 -[16] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ وَإِذَا أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی سورج ڈوبنے سے پہلے عصرکی ایک رکعت پالے وہ اپنی نماز پوری کرلے اورجب سورج چمکنے سے پہلے فجرکی ایک رکعت پالے تو اپنی نماز پوری کررے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ کیونکہ اس نے نمازکاوقت پالیا اوراس کی یہ نمازاداہوگی نہ کہ قضاء۔خیال رہے کہ اس بارے میں احادیث متعارض ہیں۔اس حدیث سے تو معلوم ہوا کہ طلوع وغروب کے وقت نمازصحیح ہے مگر دوسری روایت میں آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وقتوں میں نمازپڑھنے سے سخت منع فرمایا،لہذا قیاس شرعی کی ضرورت پڑی جو ان میں سے ایک حدیث کو ترجیح دے۔قیاس نے حکم دیا کہ اس صورت میں عصر درست ہوگی اورفجرفاسد ہوجائے گی کیونکہ عصر میں آفتاب ڈوبنے سے پہلے وقت مکروہ بھی آتا ہے یعنی سورج کا پیلا پڑنا،لہذایہ شروع بھی ناقص ہوئی اورختم بھی ناقص،لیکن فجر میں آخر تک وقت کامل ہے اس صورت میں نمازشروع تو کامل ہوئی اورختم ناقص،لہذاعصر میں اس حدیث پرعمل ہے اورفجرمیں ممانعت کی حدیث پر۔اس کی زیادہ تحقیق ہماری کتاب "جاء الحق"حصہ دوم میں دیکھو۔غرضکہ سور ج نکلتے وقت کوئی نماز درست نہیں،اورسورج ڈوبتے وقت اس دن کی عصرجائز ہے اگرچہ مکروہ ہے۔
|
603 -[17] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا كَفَّارَة لَهَا إِلَّا ذَلِك» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جونمازبھول جائے یااس سے غافل ہوکر سو جائے ۱؎ تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے تو پڑھ لے ایک روایت میں ہے اس کاکفارہ اس کے سواءاورکچھ نہیں۲؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع