30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے خلاف نہیں جیسے سورج کی گرمی ایک ہے لیکن اس کے اثر کا ظہور زمین پرمختلف،کہیں سردی،کہیں گرمی،ایسے ہی ادھربھی ہے کہ بھڑک کی توجہ جہاں زیادہ ہے وہاں گرمی،جہاں کم ہے وہاں سردی،لہذا اس حدیث پر نہ تو آریوں اورعیسائیوں کاکوئی اعتراض ہوسکتا ہے نہ چکڑالویوں کا۔
۳؎ یعنی دوزخ جب اوپرکو سانس لیتا ہے تو دنیا میں عمومًا سردی کا زورہوتاہے اورجب نیچے کوسانس چھوڑتاہے تو عمومًا گرمی کی شدت۔خیال رہے کہ یہ حدیث بالکل ظاہری معنی پرہے کسی تاویل یاتوجیہ کی ضرورت نہیں ہرچیزمیں قدرت نے زندگی اورشعوربخشے ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"فَمَا بَکَتْ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ"کفار کے مرنے پر آسمان و زمین نہیں روتے یعنی مسلمان کے مرنے پر روتے ہیں،اورفرماتاہے:"وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ"بعض پتھر اﷲ کے خوف کی وجہ سے گرجاتے ہیں۔چکڑالویوں کو ان احادیث پراعتراض کرنے سے پہلے یہ آیات دیکھنی چاہئیں۔
|
592 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ على أَرْبَعَة أَمْيَال أَو نَحوه |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عصر اس وقت پڑھتے تھے کہ سورج بلنداورصاف ہوتاتھاکہ جانے والا اطراف مدینہ کی طرف جاتاوہاں اس وقت پہنچ جاتاکہ سورج بلندہوتاحالانکہ بعض اطراف مدینہ سے چار میل یا اس کی مثل تھے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ اس حدیث سے نہ تو یہ ثابت ہوتاہے کہ عصردومثل سے پہلے پڑھتے تھے اور نہ یہ کہ عصراول وقت پڑھ لیتے تھے،حنفی وقت میں (غروب آفتاب سے ۵۰منٹ پہلے)عصر پڑھ کر اتنی دوربے تکلف چلاجاسکتا ہے۔طحاوی شریف میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ اس وقت عصر پڑھتے جب دھوپ اونچے پہاڑ پرنظرآتی تھی۔اورسیدنافاروق اعظم نے اپنے عمّال کو لکھا کہ صحابہ کرام نمازعصردیرمیں پڑھتے تھے۔
|
593 -[7] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ: يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلا ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ منافق کی نمازہے کہ بیٹھا ہواسورج کا انتظار کرتا رہے حتی کہ جب پیلا پڑجائے اورشیطان کے دوسینگوں کے بیچ آجائے توکھڑاہوکرچار چونچیں مارے کہ ان میں اﷲ کا تھوڑا ہی ذکر کرے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ اس حدیث سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ دنیوی کاروبار میں پھنس کرنماز عصر دیر سے پڑھنا منافقوں کی علامت ہے۔ دوسرے یہ کہ غروب سے۲۰منٹ پہلے کراہت کا وقت ہے،وقت مستحب میں عصر پڑھنا چاہیئے۔تیسرے یہ کہ رکوع اورسجدہ بہت اطمینان سے کرنا چاہیئے،حضور نے جلدبازسجدے کومرغ کے چونچ مارنے سے تشبیہ دی جو وہ دانہ چگتے وقت زمین پرجلدی جلدی مارتاہے۔
|
594 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ» |
روایت ہے حضر ت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس کی نماز عصر جاتی رہی گویا اس کا گھر باراورمال لٹ گیا ۱؎ ۔(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع