دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۴؎  یعنی آفتاب ڈوبنے سے قریبًا پچاس منٹ پہلے اور پیلا پڑنے سے آدھا گھنٹہ پہلے عصر پڑھتے تھے،قریبًا دس منٹ میں نماز سے فراغت ہوتی تھی،چالیس منٹ میں انسان بخوبی مدینہ منورہ کے کنارے پہنچ سکتا ہے۔یہ فقیرآدھے گھنٹے میں پیدل مسجدقباءشریف پہنچ جاتاتھا،لہذا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضورایک مثل میں پڑھتے تھے یہ حدیث ہمارے خلاف نہیں۔

۵؎  شریعت میں اس نماز کا نام عشاءہے مگر بدوی لوگ عتمہ کہتے ہیں یعنی اونٹنی دوھنے کے وقت کی نماز۔خیال رہے کہ نماز کے وہی نام لینے چاہئیں جو شریعت نے مقرر کئے،ظہرکو پیشی،عصرکو دیگر،مغرب کو شام،اورعشاء کو خفتَاں کہناجیسا کہ پنجاب میں مروج ہے برا ہے۔یہاں تاخیر سے مرادتہائی رات تک دیر لگاناہے،جیسا کہ دوسری روایات میں ہے۔

۶؎   اس کی شرع پہلے گزر چکی۔بات سے دنیاوی غیرضروری باتیں مراد ہیں یہی مکروہ ہیں،لہذا دینی جلسے،دینی کتب کا مطالعہ عشاء کے بعدمنع نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عشاء کے بعد جلدی سوجاؤ صبح کوجلدی اٹھو۔

۷؎  یعنی فجراتنی جلدی شروع کرتے کہ ساٹھ یاسو آیتیں پڑھ کرفارغ ہونے پر اتنا اجیالا ہوتا کہ ساتھی پہچان لیا جائے،یہ ان لوگوں کی دلیل ہے جن کے نزدیک فجراندھیرے میں پڑھنا مستحب ہے۔امام اعظم کے نزدیک یہ اندھیرا مسجدکاہوتاتھا نہ کہ وقت کاکیونکہ مسجد نبوی بہت  گہری ہے،باہر کی روشنی       وہاں بہت دیر میں پہنچتی ہے اور اگر مان لیا جائے کہ یہ وقت کا اندھیرا تھا تو یہ حضور کا خصوصی عمل ہے،فرمان آگے آرہا ہے کہ فرمایا فجر اجالاکرکے پڑھو کہ اس کا ثواب زیادہ ہے اورجب حضورکے فرمان وعمل شریف میں تعارض معلوم ہو تو فرمان کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ عمل میں احتمال ہے کہ آپ کی خصوصیات میں سے ہو۔خیال رہے کہ ایسی حدیث کوئی نہیں جس میں اندھیرے میں فجر پڑھنے کا حکم دیا گیا ہو مگر اجیالے کے حکم کی بہت حدیثیں موجودہیں،نیز عام صحابہ فجراجیالے میں ہی پڑھتے تھے۔حضرت علی قمبر سے فرمایا کرتے تھے اے قمبرخوب اجیالاکرو،خوب اجیالاکرو(طحاوی)صدیق اکبرجب فجر سے فارغ ہوتے تو محسوس ہوتا تھا کہ آفتاب نکلاچاہتا ہے۔(بیہقی)ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کاجیسااتفاق فجروعصرکے اجیالے پرہے ایسا بہت کم مسائل پرہے۔(طحاوی وخسرو)فقیر نے "جاء الحق"حصہ دوم میں اجیالہ فجر کی انتیس ۲۹ احادیث پیش کی ہیں حتی کہ دیلمی کی روایت نقل کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاجوفجرروشنی میں پڑھے اﷲ اس کی قبراور دل میں روشنی کرے۔

588 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن مُحَمَّد بن عَمْرو هُوَ ابْن الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ وَالصُّبْح بِغَلَس

روایت ہے حضرت محمد ابن عمرو ابن حسن ابن علی سے فرماتے ہیں ہم نے جابر ابن عبداﷲ سے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کے بارے میں پوچھا فرمایاظہردوپہری میں پڑھتے تھے اور عصر جب کہ سورج صاف ہوتا اورمغرب جب کہ سورج ڈوب جاتاہے اورعشاءجب لوگ زیادہ ہوتے توجلدی پڑھ لیتے اورجب تھوڑے ہوتے تودیرمیں پڑھتے اورصبح اندھیرے میں ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎   اس کی شرح پہلے گزرگئی۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ اگر وقت میں گنجائش ہوتولوگوں کے اجتماع کاخیال رکھاجائے۔ریل کا سا وقت نہ ہو کہ نمازی ہوں یا نہ ہوں نماز پڑھ لی جائے۔دیکھوحضورصلی اللہ علیہ وسلم  کا عمل کہ اگر لوگ کم ہوتے تو عشاء دیر سے پڑھتے۔

589 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ سَجَدْنَا على ثيابنا اتقاء الْحر

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیچھے ظہرپڑھتے توگرمی سے بچنے کے لئے اپنے کپڑوں پرسجدہ کرتے تھے ۱؎(مسلم،بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن