30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ خیال رہے کہ امام اعظم کے نزدیک نماز مغرب ہمیشہ اورنمازظہرسردیوں میں جلدی پڑھنا مستحب ہے کہ وقت داخل ہوتے ہی نمازشروع کردی جائے ان دو کے سوا باقی تمام نمازیں کچھ دیر سے پڑھنا مستحب ہیں۔امام صاحب کے نزدیک نمازجلدی پڑھنے کے معنے یہ ہیں کہ وقت شروع ہوتے ہی نماز پڑھ لی جائے دیر نہ لگائی جائے،بعض آئمہ کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ نماز کا وقت آتے ہی پڑھ لی جائے مگرنمازعشاء میں تہائی رات تک دیر لگاناسب کے نزدیک مستحب ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ عشاءکی تاخیراورمغرب میں جلدی یونہی سردیوں میں ظہر کی جلدی پرسب متفق ہیں باقی نمازوں میں اختلاف ہے۔
|
587 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصلي الْعَصْر ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمغرب وَكَانَ يسْتَحبّ أَن يُؤَخر الْعشَاء الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا والْحَدِيث بعْدهَا وَكَانَ يَنْفَتِل مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ بِالسِتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا |
روایت ہے حضرت سیارابن سلامہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والدحضرت ابی برزہ اسلمی کے پاس گئے۲؎ ان سے میرے باپ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرائض کیسے پڑھتے تھے وہ بولے کہ دوپہری کی نماز جسے تم پہلی کہتے ہو تب پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۳؎ اورعصر پڑھتے پھر ہم میں سے ایک کنارہ مدینہ میں اپنے گھر پہنچ جاتا حالانکہ سورج صاف ہوتا۴؎ اورجوکچھ مغرب کے بارے میں فرمایاوہ میں بھول گیا اورآپ عشاءجسے تم عتمہ کہتے ہواسے دیرسے پڑھنے کوپسندفرماتے تھے۵؎ اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات چیت ناپسند فرماتے تھے ۶؎ اورنمازفجرسے جب فارغ ہوتے جب کہ آدمی اپنے پاس والے کوپہچان لیتاحالانکہ آپ ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے۷؎ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ عشاءکوتہائی رات تک تاخیر کرنے میں پروا نہ کرتے تھے اس سے پہلے سونا اوراس کے بعد بات چیت کرنا ناپسندفرماتے تھے۔(مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ مشہورتابعی ہیں،بصری،قبیلۂ بنی تمیم سے ہیں،بہت صحابہ سے ملاقات ہے۔
۲؎ آپ کانام نفلہ ابن عبیدہے،صحابی ہیں،حضورکی وفات کے بعد مسلمان دور دور سے صحابہ کی زیارت کرنے،ان سے مسائل پوچھنےآیا کرتے تھے اس سلسلے میں آپ کی حاضری بھی تھی۔
۳؎ یعنی ظہراول وقت پڑھ لیتے تھے،یہاں سردی کے زمانہ کی ظہرمراد ہے،ورنہ اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ حضورنے فرمایاظہرٹھنڈی کروکیونکہ دوپہری کی گرمی دوزخ کی بھڑک سے ہے،لہذا یہ حدیث نہ اگلی حدیث سے متعارض ہے نہ حنفیوں کے خلاف۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع