30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی اے عروہ !یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت جبریل حضور سے آگے کھڑے ہوں،رب تو فرماتا ہے:"لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ"تمہاری یہ خبرمجھے قرآن کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔
۵؎ خیال رہے کہ حضرت عروہ ابن زبیرخودبھی صحابی ہیں مگرپھربھی اسناد سے حدیث بیان کی۔مقصدیہ ہے کہ میں نے حضور سے خودبھی یہ حدیث سنی ہے،میرے علاوہ اورصحابہ نے بھی سنی اوران سے دوسرے مسلمانوں نے بھی۔غرض کہ بطورگواہی یہ اسنادپیش کی ورنہ جب صحابی خودحضور سے حدیث سن لیں تو انہیں اسنادکی ضرورت نہیں۔
۶؎ حضرت عروہ نے اس جگہ نمازکے اوقات کا ذکر نہ کیا کیونکہ حضرت عمرابن عبدالعزیزکو اس پرتوکوئی شبہ نہ تھا،انہیں شبہ یہ تھا کہ حضرت جبریل حضورحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کونمازکیونکرپڑھاسکتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم توامام الاولین و الاٰخرین ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کوجاتے ہوئے سارے نبیوں کو نماز پڑھائی،بیت المقدس میں ان مقتدیوں میں حضرت جبریل و میکائل بلکہ سارے براتی فرشتے اس معراج والے دولہا(صلی اللہ علیہ وسلم)کے پیچھے تھے،آج حضرت جبریل امام کیسے ہوگئے اس لئے اسناد سے صرف نماز پڑھانے کا واقعہ عرض کیا۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ معراج کی نماز نمازِعشق تھی نہ کہ نماز شرعی ورنہ گزشتہ نبی یہ نماز نہ پڑھتے کہ بعد وفات احکام شرعیہ ختم ہوجاتے ہیں اوریہ نمازتھی اوراحکام شرعیہ لانے والے حضرت جبریل تھے،عشق حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے حضرت جبریل امین کوسکھایا اورشریعت کے احکام حضرت جبریل علیہ السلام لائے"اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلےٰ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحٰبِہٖ وَسَلَّمَ"۔
|
585 -[5] وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ إِنَّ أَهَمَّ أُمُورِكُمْ عِنْدِي الصَّلَاة فَمن حَفِظَهَا وَحَافَظَ عَلَيْهَا حَفِظَ دِينَهُ وَمَنْ ضَيَّعَهَا فَهُوَ لِمَا سِوَاهَا أَضْيَعُ ثُمَّ كَتَبَ أَنْ صلوا الظّهْر إِذا كَانَ الْفَيْءُ ذِرَاعًا إِلَى أَنْ يَكُونَ ظِلُّ أَحَدِكُمْ مِثْلَهُ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ فَرْسَخَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً قبل مغيب الشَّمْس وَالْمغْرب إِذا غربت الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَيْنُهُ وَالصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ. رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے آپ نے اپنے حکام کو لکھا کہ میرے نزدیک سارے کاموں سے زیادہ اہم نماز ہے ۱؎ جس نے اسے محفوظ رکھا اور اس کی پابندی کی اس نے اپنا دین محفوظ رکھا اور جس نے اسے ضائع کردیا تو وہ نماز کے سواء کو بہت ضائع کرےگا ۲؎ پھرلکھا کہ ظہراس وقت پڑھو جب سایہ ایک گز ہوجائے۳؎ یہاں تک پڑھو کہ ہر ایک کا سایہ اس کے برابرہوجائے۴؎ اورعصرجب پڑھو کہ سورج اونچا سفید صاف ہو جس قدرکہ سواء آفتاب ڈوبنے سے پہلے دوتین کوس چل لے ۵؎ اورمغرب جب پڑھو کہ سورج ڈوب جائے اورعشاء اس وقت کہ شفق غائب ہوجائے تہائی رات تک ۶؎ تو جوعشاء سے پہلے سوجائے خدا کرے اس کی آنکھیں نہ سوئیں،جو سوجائے اس کی آنکھیں نہ سوئیں،جوسوجائے اس کی آنکھیں نہ سوئیں ۷؎ اور فجر پڑھو کہ تارے چمکتے ہوں گتھے ہوئے ہوں ۸؎ (مالک) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع