30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ اس حدیث سے امام شافعی و صاحبین نے دلیل پکڑی کہ ایک مثل پرعصرکا وقت ہوجاتاہے۔ہمارے امام اعظم کے نزدیک دومثل پرہوتا ہے۔مگر یہ حدیث ان کے بھی خلاف ہے کیونکہ اس میں سایہ اصلی کا ذکر نہیں،حالانکہ ان بزرگوں کے نزدیک بھی عصر کا وقت سایہ اصلی کے سواء ایک مثل سایہ ہونے پر ہوتا ہے۔حق یہ ہے کہ اوقات کی یہ حدیث منسوخ ہے،جیسے کہ اس دن ہرنماز دو رکعت تھی ایسے ہی اس دن اوقات نماز یہ تھے،بعدمیں نمازوں کی رکعتوں میں بھی زیادتی ہوئی اوراوقات میں بھی تبدیلی۔ان شاءاﷲ اس کی تحقیق اگلے باب میں ہوگی اورہماری کتاب "جاء الحق"حصہ دوم میں بھی ملاحظہ کرو۔اس کی ناسخ احادیث کا بھی ذکر آرہا ہے۔
۴؎ یعنی آج کل جس وقت افطار ہوتا ہے اس وقت مغرب پڑھائی سورج ڈوبتے ہی،ورنہ اس دن نہ روزہ فرض تھا نہ افطارتھا۔روزے بعدہجرت فرض ہوئے لہذا حدیث پراعتراض نہیں۔
۵؎ اس کا وہی مطلب ہے جواوپربیان ہوا یعنی غروب آفتاب کی سرخی کے بعدوہ سفیدی شفق ہے اس کے چھپنے پروقت عشاءہوجاتاہے وہ ہی یہاں مراد ہے جیسا کہ ان شاءاﷲ اگلے باب میں آرہاہے۔
۶؎ اس کا وہ ہی مطلب ہے جواوپربیان ہوا یعنی آج کل جب پو پھٹنے پرروزہ دارکو کھانا پینا حرام ہوتا ہے اس وقت نمازفجرپڑھائی ورنہ اس وقت نہ روزے تھے نہ سحری وافطار۔
۷؎ ظاہر یہ ہے کہ آج ظہر اس وقت پڑھائی جس وقت کل عصر پڑھائی تھی،یعنی ایک مثل سایہ پر۔لہذایہ حدیث بالا تفاق منسوخ ہے۔کسی کا مذہب یہ نہیں کہ ظہر کا آخر اور عصر کا اول بالکل ایک وقت ہے،سب کے نزدیک ظہر کے بعد عصر کا وقت ہوتاہے۔بعض نےفرمایا کہ یہاں تقریبی وقت مراد ہے یعنی قریبًا ایک مثل سایہ تھا ایک مثل سے کچھ ہی پہلے۔بعض نے فرمایا کہ نماز ظہر ختم ہونے پر ایک مثل ہوا نہ کہ شروع پر۔بعض نے فرمایا کہ ایک مثل مع سایہ اصلی کے مرادہے،یعنی کل عصر پڑھائی ایک مثل پر،علاوہ سایہ اصلی کے اوپر،آج ظہر پڑھائی ایک مثل مع سایہ اصلی کے۔غرض کہ یہ حدیث مشکلات میں سے ہے حق یہ ہے کہ منسوخ ہے۔
۸؎ یہ خبربھی بالاتفاق منسوخ ہے کیونکہ سب کے نزدیک وقت عصرآفتاب چھپنے پرختم ہوتا ہے نہ کہ سایہ دوگنا ہونے پربلکہ امام اعظم کے ہاں اس وقت عصر شروع ہوتی ہے۔
۹؎ یعنی مغرب دو دن ایک ہی وقت پڑھائی،امام شافعی و مالک کا یہ ہی قول ہے۔مگرہمارے ہاں یہ حدیث ہی منسوخ ہے۔پچھلی حدیث میں گزرگیاکہ حضورنے دوسرے دن مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔اگر وقت مغرب صرف اداءنمازکے بقدرہوتا تو اس تاخیر کے کیا معنی ہیں؟ اور وہ حدیث اس کے بعد کی ہے کیونکہ آج تو اسلام کی پہلی نمازیں اداہو رہی ہیں۔
۱۰؎ یہ کلمہ حضور انکسار کے طور پراپنے الفاظ میں ادا فرمارہے ہیں ورنہ حضرت جبریل نے نہایت ادب سے عرض کیا تھا کہ یارسول اﷲ یا حبیب اﷲ،جیسے آج کوئی عالم کہے کہ مجھے جلسہ والوں نے کہا کہ تو بھی کچھ کہہ حالانکہ جلسے والے ادب سے عرض کرتے ہیں۔حضرت جبریل صرف نام شریف لے کر کیسے پکارسکتے ہیں یہ تو حکم قرآنی کے خلاف ہے،رب فرماتا ہے:"لَاتَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"الایہ۔
۱۱؎یعنی ان نمازوں میں سے جس نبی نے جو نمازپڑھی وہ ان ہی وقتوں میں پڑھی۔خیال رہے کہ کسی نبی پر یہ پانچ نمازیں جمع نہ ہوئیں یہ اجتماع حضور کی امت کی خصوصیت ہے،لہذا حدیث صاف ہے بلکہ ابوداؤد،بیہقی،ابن ابی شیبہ کہتے ہیں حضور نے فرمایا کہ نمازعشاءتم سے پہلےکسی امت نے نہ پڑھی،ہوسکتا ہے کہ یہ نمازبعض انبیاء نے پڑھی ہوں ان کی امت پر فرض نہ ہو جیسے آج نماز تہجد ہمارے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع