30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقتوں کا باب ۱؎
۱؎ مواقیت وقتوں کی جمع ہے۔میقات بمعنی وقت ہے،جیسے معیاد بمعنی وعدہ،میلادبمعنی ولادت،معراج بمعنی عروج،یہاں نماز کے اوقات مراد ہیں۔نماز کے اوقات تین قسم کے ہیں:وقت مباح،وقت مستحب اور وقت مکروہ۔نماز کے اوقات تشریعی چیزیں ہیں جن میں عقل کو دخل نہیں مگر ان میں حکمتیں ضرور ہیں۔یہ حکمتیں ہماری کتاب "اسرار الاحکام"میں دیکھو۔چونکہ نماز کے لئے وقت شرطِ اوّل ہے اس لئے صاحبِ مشکوۃ نے نماز کے بیان میں پہلے اس کا ذکر کیا۔
|
581 -[1] عَن عبد اللَّهِ ابْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاة فَإِنَّهَا تطلع بَين قَرْني شَيْطَان» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہرکا وقت ۱؎ جب ہے کہ سورج ڈھل جائے۲؎ اورآدمی کا سایہ اس کے قدکی برابرہو جائے۳؎ جب تک کہ عصرنہ آئے۴؎ اورعصرکاوقت جب تک ہے کہ سورج زرد نہ پڑجائے ۵؎ اورنمازمغرب کا وقت جب تک ہے کہ شفق غائب نہ ہوجائے۶؎ اورعشاءکی نماز کا وقت رات کے درمیانی آدھے تک ہے ۷؎ اورنمازصبح کا وقت صبح چمکنے سے اس وقت تک ہے کہ سورج نہ چمکے۔جب سورج چمک جائے تو نمازسے بازرہو۸؎ کیونکہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۹؎ (مسلم) |
۱؎ ظہر یا ظہورسے بنا یاظہیرہ سے(دوپہری)چونکہ معراج کے بعد اولًا یہی نماز ظاہر ہوئی اور سب سے پہلے یہی پڑھی گئی،نیزیہ دوپہری میں اداکی جاتی ہے لہذا اسے ظہرکہاجاتاہے۔
۲؎ آفتاب صبح سے دوپہر تک چڑھتا ہے اور دوپہرسے شام تک پچھم کی طرف اترتا ہے جس حد پرچڑھنا ختم ہوجائے اور اس کے بعد اترنا شروع ہو وہ نصف النہار سے آگے بڑھنے کا نام زوال ہے،یہ زوال ہی وقت ظہر کی ابتداءہے وہی یہاں مراد۔
۳؎ زوال کے وقت سایہ برابر ہونا بعض ملکوں اوربعض زمانوں میں ہوگا۔سردی میں چونکہ سورج جنوب کی طرف ہوتا ہواجاتاہے لہذا اس وقت بعض جگہ یہ سایہ چیز کے برابرہوجاتاہے،لیکن کبھی بعض ملکوں میں اس وقت سایہ بالکل نہیں ہوتا یا ہوتا ہے مگر بہت تھوڑا۔جس زمانہ میں حضور نے یہ فرمایا ہوگا وہ موسم سردی کا ہوگا،لہذا یہ حدیث بالکل ظاہرہے اورآیندہ حدیثوں کے خلاف نہیں جن میں اس سایہ کی مقدار تسمہ کی برابربیان فرمائی گئی کیونکہ وہاں موسم گرمی کا ذکر ہے اوریہاں سردی کا اورہوسکتا ہے کہ اس جملہ میں ظہر کا آخری وقت مرادہواورحدیث کے معنی یہ ہوں کہ آفتاب ڈھلنے سے ظہرشروع ہوتی ہے اور ایک مثل سایہ پر ختم،اس صورت میں یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ہمارے ہاں دومثل پرظہرکاوقت نکلتاہے ان کے ہاں ایک مثل پر لیکن ان کی یہ دلیل کمزور ہے کیونکہ اس میں اصلی سایہ کاذکرنہیں،امام شافعی کے ہاں اصلی سایہ کے علاوہ ایک مثل سایہ چاہئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع