30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ معلوم ہوا کہ نماز پنجگانہ کے سوا کوئی اورنمازفریضۂ اسلام نہیں۔عیدین اور وترواجب ہیں فرض نہیں،نماز جمعہ ان پانچ میں ہی داخل ہیں،کیونکہ وہ ظہر کے قائم مقام ہے اسی لیے جس پر جمعہ فرض ہے اس پر ظہر نہیں اور جس پر ظہر فرض ہے اس پر جمعہ نہیں۔یہ ناممکن ہے کہ کسی پرظہراورجمعہ دونوں فرض ہوں تو نمازیں چھ ہوجائیں گی۔نذر کی نماز اگرچہ فرض ہے مگر وہ فریضۂ اسلام نہیں۔
۲؎ چونکہ رکوع اسلامی نماز کی خصوصیات میں سے ہے،دوسری امت کی نمازوں میں عمومًا رکوع نہ تھا،نیز رکوع مل جانے سے رکعت مل جاتی ہے،نیزرکوع ارکان نماز میں فاصل ہے،اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکرفرمایا،خشوع دل کا اور ہے،اعضاء کا اور۔یہ بحث ہماری"تفسیرنعیمی"میں دیکھو۔
۳؎ اس طرح کہ اس کے گناہ صغیرہ معاف کردے اورکبیرہ گناہ سے توبہ کی اورحقوق العباد ادا کرنیکی توفیق دے۔خیال رہے کہ نماز پورا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے سارے شرائط ادا کئے جائیں،ایمان بھی نماز کی شرط ہے۔لہذاحدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ نمازی آدمی جو چاہے گناہ کرے معاف ہوجائیں گے اور نہ یہ اعتراض کہ منافقین اور بہت سے بے دین نمازی تھے اورہیں مگر ان کی مغفرت نہیں۔
۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ بے نمازی کافر نہیں اور ترک نماز کفرنہیں،کیونکہ کفرکی بخشش نہیں ہوتی،رب فرماتا ہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ" الایہ۔آیت میں شرک بمعنی کفرہے۔
|
571 -[8] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا خَمْسَكُمْ وَصُومُوا شَهْرَكُمْ وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تدْخلُوا جنَّة ربكُم» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضر ت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پانچ نمازیں پڑھو اوراپنے مہینہ کا روزہ رکھو اور اپنے مالوں کی زکوۃ دو اپنے حکم والے کی اطاعت کرو ۱؎ اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ ۲؎ (احمدوترمذی) |
۱؎ حکم والوں سے خلیفۃ المسلمین،اسلامی حکام،علمائے دین سب ہی مرادہیں۔اطاعت سے مراد ان کے جائز احکام میں فرمانبرداری کرنا ہے،خلاف شرع حکم کی اطاعت لازم نہیں،چونکہ رمضان کے روزے صرف اسی امت پر فرض ہوئے اس لیئے شَہْرُکُمْ فرمایا،زکوۃ روزے کے بعدفرض ہوئی اس لئے اس کا ذکربھی روزے کے بعدہوا۔
۲؎ اعمال کی نسبت بندوں کی طرف کی اور جنت کی رب کی طرف تاکہ خریدوفروخت کے معنی ظاہر ہوں،فرماتا ہے:"اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی" ۔خیال رہے کہ مختلف احادیث مختلف اوقات کی ہیں جس زمانہ میں کوئی عبادت نہ آئی تھی تب فرمایا گیا جس نے کلمہ پڑھ لیاجنتی ہوگیا جب نمازآگئی تونمازہی پرجنت کا وعدہ فرمایا گیا اورجب زکوۃ روزے وغیرہ بھی آگئے تب جنتی ہونے کے لئے ان اعمال کی بھی قید لگی،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
|
572 -[9] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ سِنِين وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَا رَوَاهُ فِي شرح السّنة عَنهُ. 573 -[10] وَفِي المصابيح عَن سُبْرَة بن معبد |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اورانہیں نماز پر مارو جب وہ دس سال کے ہوں ۱؎ اور علیحدگی کر دو ان کے درمیان خوابگاہ ہوں میں۲؎ (ابوداؤد)یوں ہی اسے شرح سنہ میں انہی سے روایت کیا اورمصابیح میں ابن معبد سے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع