30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
568 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَي الْأَعْمَال أحب إِلَى الله قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ استزدته لزادني |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اﷲ کوکون ساعمل زیادہ پیاراہے فرمایاوقت پرنماز ۱؎ میں نے کہا پھرکون سا فرمایا ماں باپ سے بھلائی میں نے کہا پھرکون سافرمایا اﷲ کی راہ میں جہاد۲؎ فرمایا مجھے حضورنے یہ باتیں بتائیں اگرزیادہ پوچھتا تو زیادہ بتاتے(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی ہمیشہ نمازیں وقت مستحبہ پر اداکرنا۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایمان کے بعدنماز کا درجہ ہے ان کی دلیل یہی حدیث ہے۔جن روایتوں میں جہادکو نمازسے پہلے بیان کیا گیا وہ بعض ہنگامی حالات میں ہے جب جہاد فرض عین ہوچکا ہو اور دشمن کی یلغار بڑھ گئی ہو،ورنہ ظاہرہے کہ جہاد نماز ہی کے لئے ہوتا ہے۔یا یوں کہا جائے کہ سائلین کے لحاظ سے حضور کے جواب مختلف ہوئے،کسی کے لئے جہاد افضل تھا،کسی کے لیے غریبوں کو کھاناکھلانا،کسی کے لیے زبان کی حفاظت،کسی کے لئے چھپ کر خیرات،لہذا احادیث متعارض نہیں۔
۲؎ یہ تربیت سیدنا ابن مسعود کے حال کے لحاظ سے ہے،ورنہ بعض روایات میں اس کے برعکس بھی آیا ہے۔
۳؎ یعنی میں نے سوال ہی اتنے کئے۔خیال رہے کہ ماں باپ کی خدمت کو نماز سے بہت مناسب ہے کہ نمازرب کی عبادت ہے اوریہ خدمت مربّی کی اطاعت اسی لیے قرآن شریف میں اس خدمت کو عبادت کے ساتھ بیان فرمایا گیا:"وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا"الایہ۔
|
569 -[6] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ ترك الصَّلَاة» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بندے اور کفر کے درمیان نمازچھوڑنا ہے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی بندہ مؤمن اورکفر کے درمیان نمازکی دیوارحائل ہے جو اس تک کفرکونہیں پہنچنے دیتی جب یہ آڑ ہٹ گئی تو کفر کا اس تک پہنچنا آسان ہوگیا،ممکن ہے کہ آیندہ یہ شخص کفر بھی کر بیٹھے۔خیال رہے کہ بعض آئمہ ترک نمازکو کفربھی کہتے ہیں،بعض کے نزدیک بے نمازی لائق قتل ہے اگرچہ کافرنہیں ہوتا،ہمارے امام صاحب کے نزدیک بے نمازی کو مارپیٹ اورقید کیا جائے جب تک کہ وہ نمازی نہ بن جائے۔ہمارے ہاں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بے نمازی قریب کفر ہے یا اس کے کفر پر مرنے کا اندیشہ ہے یا ترک نماز سے مراد نماز کا انکارہے،یعنی نماز کا منکرکافرہے۔
|
570 -[7] عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لوقتهن وَأتم ركوعهن خشوعهن كَانَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَى اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَرَوَى مَالك وَالنَّسَائِيّ نَحوه |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچ نمازیں اﷲ تعالٰی نے فرض کیں ۱؎ جو ان کا وضو اچھی طرح کرے اورانہیں صحیح وقت پراداکرے اوران کا رکوع وخشوع پوراکرے۲؎ اس کے لیئے اﷲ کا وعدہ ہے کہ اسے بخش دے۳؎ اورجوایسا نہ کرے تو اس کے لیئے اﷲ کا وعدہ نہیں اگرچاہے بخشے اور اگرچاہے اسے عذاب دے۴؎ (احمد،ابوداؤد)مالک ونسائی نے اس کی مثل روایت کی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع