30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صغیرہ پر دوام کبیرہ ہے اوریہ جان کربوس وکنارکرنا کہ نماز سے معاف کرالیں گے کفر ہے،کہ یہ اﷲ پر امن ہے۔یہ حدیث اس کے لئے ہے جو اتفاقًا ایسا معاملہ کر بیٹھے پھر شرمندہ ہوکر توبہ کرے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اس میں ان حرکتوں کی اجازت دے دی گئی۔یہاں مِنْ اُمَّتِی فرمانے سے معلوم ہوا کہ یہ آسانیاں صرف اس امت کے لئے ہیں گزشتہ امتوں کی معافی بہت مشکل ہوتی تھی۔
|
567 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فأقمه عَليّ قَالَ وَلم يسْأَله عَنهُ قَالَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاة قَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فأقم فِي كتاب الله قَالَ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ أَو قَالَ حدك " |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حاضرہوا بولایارسول اﷲ!میں حدکو پہنچ گیا ۱؎ وہ مجھ پرقائم فرمادیجئے فرماتے ہیں اس سے حضور نے کچھ پوچھا نہیں ۲؎ نماز حاضر ہوئی اس نے حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۳؎ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرلی وہ کھڑا ہوگیا عرض کیایارسول اﷲ! میں نے حدپائی مجھ پراﷲ کی کتاب قائم کردیں۴؎ فرمایا کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی عرض کیا ہاں فرمایا اﷲ نے تیرا گناہ یا تیری حدبخش دی ۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی میں نے ایسا گناہ کرلیا جو شرعی سزا کا باعث ہے۔حد سزائے مقرر کو کہتے ہیں جیسے زانی کے لئے سنگساری اورچور کے ہاتھ کاٹنا۔تعزیر وہ سزا ہے جو شرعًا مقرر نہ ہوقاضی اپنی رائے سے مقرر کرے۔ان بزرگوں نے کوئی معمولی گناہ کیا تھا مگر سمجھے یہ کہ شاید اس میں بھی سزائے شرعی ہوگی۔یاحدلغوی معنی میں ہےیعنی مطلقًا سزا۔
۲؎ کیونکہ حضورانورکو کشف سے معلوم تھا کہ انہوں نے معمولی جرم کیا تھا اورپوچھنے سے ان کی رسوائی ہوگی یہ ہے شان ستاری۔(ازمرقاۃ)
۳؎ صرف ایک نمازیہ نمازعصرتھی جیسا کہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔
۴؎ لائق حدہویا نہ ہوجوبھی فرمان الٰہی ہوحدیاکفارہ یاکوئی اورچیز اسی لئے یہاں کتاب اﷲ فرمایا۔یہ صحابہ کرام کی قوتِ ایمانی ہے کہ دوسرے مجرم اپنے جرم چھپاکرجان بچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ حضرات اپنے قصورظاہرکرکے جانوں پرکھیل کرایمان بچاتے ہیں۔
۵؎ یعنی جس گناہ کو تونے قابلِ حدسمجھا تھا وہ اس نماز کی برکت سے معاف ہوگیا،لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ نمازسے شرعی سزائیں معاف ہوجاتی ہیں۔خیال رہے کہ گناہ صغیرہ پرکبھی حدنہیں ہوتی اورسواءڈکیتی کی حد کے کوئی حد توبہ سے معاف نہیں ہوتی،ڈاکو اگرگرفتاری سے پہلے توبہ کرے تو سزا نہیں پاتا،یونہی اگر کافربعدزنا مسلمان ہوجائے تو رجم وغیرہ کا مستحق نہیں۔(مرقاۃ) شیخ عبدالحق نے فرمایا مَعَنَاسے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازپڑھنا گناہوں کی معافی کے لیے اکسیر ہے۔نماز کی عظمت امام کی عظمت کے مطابق ہے۔سبحان اﷲ!جن کے ساتھ والی نمازمجرموں کو بخشوادے وہ ذات کریم خودکیسی ہوگی۔
|
568 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَي الْأَعْمَال أحب إِلَى الله قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ استزدته لزادني |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اﷲ کوکون ساعمل زیادہ پیاراہے فرمایاوقت پرنماز ۱؎ میں نے کہا پھرکون سا فرمایا ماں باپ سے بھلائی میں نے کہا پھرکون سافرمایا اﷲ کی راہ میں جہاد۲؎ فرمایا مجھے حضورنے یہ باتیں بتائیں اگرزیادہ پوچھتا تو زیادہ بتاتے(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع