30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی اگر اسلام لاکرقتل،زنایا ڈکیتی وغیرہ کریں تو قتل کے مستحق ہوں گے کہ یہ اسلام کا حق ہے یہ قتل کفر نہ ہوگا۔
۵؎ یعنی اگر کوئی زبانی کلمہ ظاہری نماز و زکوۃ ادا کرے تو ہم اس پر جہاد نہ کریں گے،اگر منافقت سے یہ کام کرتا ہے تو رب اسے سزا دے گا۔اسلامی جہاد منافقوں پر نہیں۔
|
13 -[12] وَعَن أنس أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذمَّته» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوہماری سی نمازپڑھے،ہمارے قبلہ کو منہ کرے،ہمارا ذبیحہ کھالے تو یہ وہ مسلمان ہے ۱؎جس پر اﷲ رسول کی ذمہ داری ہے لہذا تم اﷲ کا ذمہ نہ توڑو۲؎ (بخاری) |
۱؎ خیال رہے کہ مؤمن کی علامات مختلف زمانوں میں مختلف رہی ہیں،اس لحاظ سے ان کے متعلق مختلف احادیث وارد ہوئیں،ایک وقت صرف کلمہ پڑھنا مؤمن کی علامت تھی،نماز وغیرہ کوئی احکام نہ آئے تھے تب ارشادہوا"من قال لا الہ الا اﷲ دخل الجنۃ"جس نے کلمہ پڑھ لیا جنتی ہوگیا،پھر وہ وقت آیا جب نماز وغیرہ بھی آگئی تو ارشادہوا جو یہاں مذکورہے۔مدینہ منورہ میں منافقین بھی تھے جو کلمہ نماز وغیرہ ادا کرتے ہوئےبھی بے ایمان رہے،تب اﷲ رسول کی محبت علامت ایمان قرار پائی کہ ارشاد ہوا:"لَا یُؤمِنُ اَحَدُکُم حَتّٰی اکون"الخ۔آیندہ کے متعلق خبردی گئی کہ آخر زمانہ میں ایک قوم ہوگی جوتم سے زیادہ عابد و زاہد ہوں گے مگر اسلام سے خارج ہوں گے۔غرضکہ جیسے حالات ویسے علامات،آج مرزائی روافض وغیرہم یہ کام کرتے ہیں مگرمؤمن نہیں۔
۲؎ یعنی یہ مؤمن اﷲ اور رسول کی امن میں ہے تم اسے نہ ستاؤ ورنہ اﷲ رسول کے خائن ٹھہرو گے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کی پناہ اور ذمہ لینا شرک نہیں ایمان کا رکن ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ متقی مسلمان کو ستانا فاسق کو ستانے سے زیادہ بُر ا ہے کہ اس میں ظلم بھی ہے اور اﷲ اور رسول کی خیانت بھی۔
|
14 -[13] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ. قَالَ: «تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ» . قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ. فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجنَّة فَلْينْظر إِلَى هَذَا» |
روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا اﷲ کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو ۱؎ وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کبھی اس سے کچھ گھٹاؤں بڑھاؤں گا نہیں۲؎ پھرجب وہ چل دیئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جنتی مردکو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۳؎ |
۱؎ یہ جملہ عبادت کی تفسیر ہے،چونکہ اس وقت تک جہاد وغیرہ احکام آئے نہ تھے یا اس پر جہاد فرض نہ تھا اس لیے جہاد کا ذکر نہ فرمایا۔
۲؎ یعنی ان فرائض میں اپنی طرف سے زیادتی کمی نہ کروں گا کہ فجر چار یا چھ پڑھوں اور ظہردویاتین یا روزے چالیس رکھ لوں،یا اپنی قوم تک بعینہ یہ ہی احکام پہنچا دوں گا،تبلیغ میں زیادتی کمی نہ کروں گا یا اب سوال میں زیادتی کمی نہ کروں گا،لہذا اس حدیث سے یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع