30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
560 -[4] وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ - قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: جَدُّ عَدِيٍّ اسْمُهُ دِينَارٌ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: «تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عدی ابن ثابت سے ۱؎ وہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے راوی يحيى ابن معین کہتے ہیں کہ عدی کے دادا کانام دینارہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے استحاضہ والی کے لیئے فرمایا کہ وہ اپنے حیض کے زمانہ میں جن میں اسے حیض آتا تھانمازچھوڑدیا کرے پھرنہائے اورہر نمازکے وقت وضوکرے ۲؎ اور روزے رکھے اورنماز پڑھے۳؎ (ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ یہ عدی کوفی ہے،انصاری ہے،اس پر رفض کا شبہ کیا گیا ہے۔(مرقاۃ)بعض نے فرمایا کہ ثابت ان کے باپ کا نام ہے،بعض نے فرمایا دادا کا نام ہے اوردینارپڑدادا،باپ کا نام قیس ابن الحطیم ہے۔واﷲ اعلم!عدی کوفہ میں روافض کی مسجدکا امام تھا، ۱۱۶ ھ میں فوت ہوا۔
۲؎ یعنی غسل تو صرف ایک بار کرے حیض ختم ہونے پراور وضو ہرنمازکے وقت کیا کرے،جیسا کہ مستحاضہ عورت کا حکم ہے لہذا "عِنْدَ کُلِّ صَلوٰۃٍ" تَتَوَضَّاہُ کا ظرف ہے نہ کہ تَغْتَسِلُ کا۔
۳؎ چونکہ روزہ مستحاضہ کے لئے نماز سے زیادہ اہم ہے کہ اس پر زمانۂ حیض کے روزوں کی قضاءہے،نمازکی نہیں لہذا روزے کونماز پر مقدم رکھاگیا۔
|
561 -[5] وَعَن حمْنَة بنت جحش قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا؟ قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ. قَالَ: «أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ» . قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: «فَتَلَجَّمِي» قَالَتْ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: «فَاتَّخِذِي ثَوْبًا» قَالَتْ هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّهُمَا صَنَعْتِ أَجَزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنت أعلم» فَقَالَ لَهَا: " إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ فتحيضي سِتَّة أَيَّام أَو سَبْعَة أَيَّام فِي عِلْمِ اللَّهِ ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وصومي وَصلي فَإِن ذَلِك يجزئك وَكَذَلِكَ فافعلي كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِينَ الظُّهْرَ وتعجليين الْعَصْر فتغتسلين وتجمعين الصَّلَاتَيْنِ: الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِي وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ» . رَوَاهُ أَحْمَدَ وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت حمنہ بنت جحش سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ مجھے بہت سخت استحاضہ آتاتھا۲؎ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اوریہ خبردینے حاضرہوئی میں نے حضورکو اپنی بہن زینب بنت جحش کے گھر پایا۳؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے بہت سخت استحاضہ آتا ہے آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں مجھے تو اس نے روزہ نماز سے روک دیاہے۴؎ فرمایا میں تمہارے واسطے گدی تجویز کرتا ہوں کہ یہ خون چوس لے گی ۵؎ عرض کیا وہ تو اس سے زیادہ ہے فرمایا تو لنگوٹ باندھو۶؎ عرض کیا وہ اس سے بھی زیادہ ہے فرمایا تو کپڑا رکھ لو ۷؎ عرض کیا وہ خون اس سے بھی زیادہ ہے میں تو خون ڈالتی بہاتی ہوں۸؎ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم کو دوباتوں کا حکم دیتا ہوں ان میں جو کرلوگی وہ دوسرے سے کفایت کرے گا اگر دونوں کرسکو تو تم جانو۹؎ فرمایا یہ بیماری شیطان کے چوکھوں ہی سے ایک چوکھ ہے۱۰؎ تم چھ یا سات دن حیض کے شمار کرلیا کرو رب کے علم میں۱۱؎ پھرنہالیاکرو،پھر جب یہ سمجھو کہ تم خوب پاک اور صاف ہوگئیں تو تئیس یاچوبیس دن ورات نمازیں پڑھو،روزے رکھو۱۲؎ کہ یہ تمہیں کافی ہوگا،ہرمہینہ یوں ہی کرلیاکروجیسے عمومًاعورتیں اپنے حیض وطہرکے اوقات میں ناپاک وپاک رہتی ہیں۱۳؎ اور اگرتم اس پرطاقت رکھو کہ ظہردیر سے اور عصرجلدی پڑھوتو ایک غسل کرو اور دو نمازیں ظہرو عصرجمع کرلیاکرو اورمغرب دیرسے عشاءجلدی پڑھوتو غسل کرو اور دونمازیں جمع کرلوتو ایساکرو اورفجرکے ساتھ غسل کروتو ایساکرلیاکرو۱۴؎ اور روزے رکھو اگر اس پرقادرہو۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دونوں کاموں میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے ۱۵؎ (احمد،ابوداؤد،ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع