30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وفات پائی۔(رضی اللہ عنہ)آپ کے بہت مناقب ہیں،نجف اشرف میں آپ کی قبر کی زیارت کرائی جاتی ہے میں بھی حاضر ہوا،مگر یہ درست نہیں۔
۲؎ یعنی اہلِ کتاب اگر حضور پر ایمان لے آویں تو انہیں اوّلًا اہل کتاب ہونے پر بھی ثواب ملے گا۔اگرچہ اس حالت میں وہ اپنے نبیوں پر غلط طریقوں سے ایمان لائے تھے کہ عیسائی حضرت مسیح کو یہود،حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔مگر چونکہ ان نبیوں کو سچا،ان کی کتابوں کو برحق تو مانتے تھے۔اس کا ثواب اب پالیں گے،جیسے عبداﷲ بن سلام و کعب احبار وغیرہ یہ حکم تا قیامت ہے۔
۳؎ اس طرح کہ اگرچندمولاؤں کا مشترکہ غلام تھا،پھر ان سب کے حقوق و خدمات بھی ادا کرتا رہا اور فرائض اسلام بھی بجالاتا رہا،غرضکہ جس قدر دنیا میں پھنسا وا زیادہ،اسی قدر عبادت پر اجر زیادہ۔
۴؎ ایک تو لونڈی کو ادب وتعلیم دینے اور آزاد کرنے کا ثواب،اوردوسرا اس سے نکاح کرلینے کا اجر۔
|
12 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَق الْإِسْلَام وحسابهم على الله. إِلَّا أَنَّ مُسْلِمًا لَمْ يَذْكُرْ» إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَام " |
روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےکہ مجھے حکم دیا گیا کہ لوگوں سے جنگ کروں تاکہ گواہی دیں ۱؎ کہ رب کے سواکوئی معبودنہیں اورمحمداﷲ کے رسول ہیں اورنماز قائم کریں زکوۃ دیں ۲؎ جب یہ کرلیں گے تو مجھ سے اپنے خون و مال بچالیں گے۳؎ سواءاسلامی حق کے ۴؎ اُن کا حساب اﷲ کے ذمہ ہے ۵؎ اس میں بخاری مسلم کا اتفاق ہےمگرمسلم نے اسلامی حق کا ذکر نہ کیا۔ |
۱؎ یہاں حَتّٰی بمعنی کہ ہے جیسے"اسلمتُ حتی ادخل الجنۃ"یعنی مجھے حکم الٰہی ہے کہ ملک گیری یا مال گیری کی نیت سے جہاد نہ کروں بلکہ لوگوں کو ہدایت دینے کی نیت سے کروں۔اس صورت میں حدیث پر نہ کوئی اعتراض ہے کہ یہ آیت قرآنیہ کے خلاف ہے اور الناس سے مراد سارے کفار ہیں۔لہذا یہ حتی انتہاء کا نہیں۔خیال رہے کہ مشرکین عرب کے لئے حکم جزیہ نہیں یا وہ ایمان لاویں یا قتل و قید و عبدیت وغیرہ۔رب فرماتا ہے:"وَقٰتِلُوۡہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتْنَۃٌ"عرب کے اہل کتاب اور عجم کے تمام کفار کے لئے یا ایمان یا جزیہ ورنہ قتل و قید وغیرہ رب فرماتا ہے:"حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنۡ یَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوۡنَ "مرتد کے لئے یا اسلام یا قتل ہے نہ جزیہ نہ قید رب فرماتا ہے:"تُقٰتِلُوۡنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوۡنَ "۔باغیوں کے لیے یاقتل یا بغاوت سے توبہ،رب فرماتا ہے:"فَقٰتِلُوا الَّتِیۡ تَبْغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللہِ"لہذا آیات و احادیث متفق ہیں۔
۲؎ چونکہ اس وقت تک روزہ،جہاد وغیرہ کے احکام نہ آئے تھے،اسی لئے ان کا ذکر نہ ہوا اگر کوئی نماز یا زکوۃ کا انکارکرے تو کافر ہے اس پر کفار کا سا جہاد ہوگا۔تارکین نماز و زکوۃ کی گو شمالی کرنی ہوگی۔
۳؎ چونکہ اس زمانہ مبارک میں اسلام میں نئے فرقے نہ بنے تھے،کلمہ،نماز و زکوۃ ایمان کی علامت تھی،اس لئے فرمایا کہ جو یہ تین کام کرے اس کا جان و مال محفوظ ہے،اب بہت مرتد فرقے کلمہ،نماز،زکوۃ پر کاربند ہیں مگر مرتد ہیں ان پر ارتداد کا جہاد ہوگا۔جیسے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب کے معتقدین پر جہاد کیا اب بھی قادیانیوں وغیرہ مرتدین کا یہ ہی حکم ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع