30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی غیرمستحب بلکہ مکروہ کاموں پرعمل فرما کرجوازثابت کرتے تھے،یہ تبلیغ کی قسم تھی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اس پربھی ثواب ملتا تھا۔
|
553 -[9] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَ الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَلْيَتَصَدَّقْ بِنِصْفِ دِينَارٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد النَّسَائِيّ والدارمي وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے بحالت حیض صحبت کربیٹھے تو آدھا دینارخیرات کرے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی،ابن ماجہ) |
۱؎ یہ حکم استحبابی ہے،یعنی چونکہ اس نے بڑا گناہ کیاجس سے وہ عذاب کا مستحق ہوگیا۔صدقہ وخیرات عذاب دفع کرنے کے لئے اکسیر ہے،اس لئے ایسا کردے ورنہ اس گناہ کا اصل کفارہ تو توبہ ہی ہے۔آج کل بعض علماء جو بعض گناہوں پر خیرات و صدقہ کا حکم دیتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے ۔یہاں وہ شخص مراد ہے جو حرام جانتے ہوئے یہ جرم کرے اوراگرحلال جان کرایساکیاتو کافرہوگیادوبارہ اسلام لائے اورتجدیدنکاح کرے۔
|
554 -[10] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ دَمًا أَحْمَرَ فَدِينَارٌ وَإِذَا كَانَ دَمًا أَصْفَرَ فَنِصْفُ دِينَارٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہی سے وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب خون سرخ ہو ایک دینار دے اور جب خوب پیلا ہو تو آدھا دینار ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث متن واسناد دونوں کے لحاظ سے مضطرب ہے کیونکہ انہیں کی بعض روایات میں ہے کہ پانچ دینار خیرات کرے،بعض میں ہے کہ ایک دیناراوراگرنہ ہوسکے تو آدھا دینار،بعض میں ہے کہ اگر حیض کا جوش نہ ہو خون سرخ آرہا ہو تو ایک دینار خیرات کرے اوراگرحیض کا جوش ٹوٹ چکا ہواورخون کا رنگ پیلا پڑچکاہوتو آدھادینار۔خیال رہے کہ دیناردس درہم کاہوتاہے اوردرہم ساڑھے چار آنہ کا،لہذا دینار قریبًا پونے تین روپے کا ہوا،چونکہ سونے کا بھاؤ بہت تیزہے تو دینار کی قیمت بھی زیادہ ہوگئی مگر ان احکام میں وہ ہی اس زمانہ کی قیمت معتبر ہوگی۔
|
555 -[11] عَن زيد بن أسلم قَالَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لِي مِنَ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَشُدُّ عَلَيْهَا إِزَارَهَا ثُمَّ شَأْنُكَ بِأَعْلَاهَا» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالدَّارِمِيُّ مُرْسلا |
روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھااورعرض کیا اپنی بیوی سے بحالت حیض مجھے کیا چیزحلال ہے فرمایارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کا تہبندمضبوط باندھ دوپھرتہبند کے اوپرتمہارا کام ہے۲؎ اسے مالک ودارمی نے مرسلًا روایت کیا۔ |
۱؎ آپ اہلِ مدینہ سے ہیں،جلیل الشان تابعی ہیں،حضرت عمرفاروق کے آزادکردہ غلام ہیں،بڑے عالم تھے حتی کہ امام زین العابدین آپ کی مجلس میں شرکت فرماتے اور آپ سے احادیث لیتے تھے۔(اشعہ ومرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع