30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی ایک ہی چادر مجھ پر بھی ہوتی اور بحالت نماز حضور پر بھی۔اس سے معلوم ہواکہ حائضہ کا جسم نجس حقیقی نہیں،ورنہ ایسا کپڑا جس کا بعض حصہ نجاست پرہو اسے اوڑھ کریاپہن کرنمازپڑھناممنوع ہے۔خیال رہے کہ اس حدیث کے یہ الفاظ نہ بخاری میں ہیں،نہ مسلم میں،بلکہ اس کا بعض مضمون بخاری میں ہے۔(مرقاۃ)
|
551 -[7] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى حَائِضًا أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ كَاهِنًا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَتِهِمَا: «فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ»وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا من حَدِيث حَكِيم الْأَثْرَم عَن أبي تَيْمِية عَن أبي هُرَيْرَة |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو حائضہ عورت سے جماع کرے یا عورت کے پاخانہ کی جگہ یا کاہن کے پاس جائے اس نے محمد مصطفے پر اترے ہوئے کا انکار کیا ۱؎ اسے ترمذی،ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ان دونوں کی روایت میں یہ ہے کہ کاہن کے کہے ہوئے کی تصدیق کرے تو کافر ہو گیا۔ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم اس حدیث کو صرف حکیم اثرم سے جانتے ہیں جو ابو تمیمہ سے ۲؎ وہ ابوہریرہ سے راوی ہیں۔ |
۱؎ یعنی یہ تینوں شخص قرآن وحدیث کے منکرہوکر کافرہوگئے۔خیال رہے کہ یہاں سے شرعی کفر ہی مراد ہے اسلام کا مقابل۔اوران سے وہ لو گ مراد ہیں جو عورت سے دبر میں،یابحالت حیض صحبت کوجائزسمجھ کر صحبت کریں،اورکاہن نجومی کوعالم الغیب جان کراس سے فال کھلوائیں،یاغیبی خبریں پوچھیں اوراگر گناہ سمجھ کر یہ کام کریں تو فسق ہے،کفر نہیں۔یایہاں کفر سے مرادلغوی معنی ہیں ناشکری،رب فرماتا ہے: "وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ"۔خیال رہے کہ حائضہ سے صحبت کرنے کی حرمت نص قرانی سے ثابت ہے،رب فرماتا ہے:"قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ"۔اورعورت سے دبر میں صحبت کی حرمت قطعی قیاس قطعی سے ثابت ہے،ان دونوں کا منکرکافرہے۔اس قسم کی احادیث حرمت قطعی ثابت نہیں کرسکتیں۔اس کی بحث اسی جگہ مرقاۃ میں دیکھو اورہماری کتاب "جاء الحق"حصہ اول قیاس کی بحث میں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ احادیث ظنیہ ہیں اورحرمت قطعی ثابت کرنے کے لئے قطعی دلیل درکارہے۔
۲؎ ابو تمیمہ جہیمی کا نام ظریف ابن مجالد ہے،حکیم ابن اثرم کو بعض محدثین نے ضعیف فرمایا،ظریف کو بعض نے ثقہ کہا،ان کا انتقال ۹۷ھ میں ہوا،امام بخاری نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ۔(اشعہ)
|
552 -[8] وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُول الله مَا تحل لِي مِنِ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ: «مَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَالتَّعَفُّفُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ» . رَوَاهُ رَزِينٌ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِقَوِيٍّ |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیایارسول اﷲ!مجھے میری بیوی سے بحالت حیض کیا کام حلال ہے فرمایا وہ جو تہبند سے اوپر ہو اور بچنا اس سے بھی بہتر ہے ۱؎ (رزین) محی السنہ فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد قوی نہیں۔ |
۱؎ یعنی حائضہ عورت جب کہ پائجامہ یاتہبندمضبوطی سے باندھے ہوتواس کے ساتھ لپٹنا اور اس سے بوس و کنار درست ہے لیکن بچنا بہتر،خصوصًا اس جوان کوجوایسی حالت میں اپنے نفس پر قابو نہ رکھتا ہو۔خیال رہے کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل شریف خودکرنا بیان جواز کے لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع