30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اپنی بیوی کا جھوٹھا کھانا پینا جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔فقہاءجومردکوعورت کا جھوٹھا کھانا منع کرتے ہیں وہاں اجنبی عورت مراد ہے۔لہذا وہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پاک نہایت سادہ اور بے تکلف تھی امت کو سادگی اختیار کرنی چاہیئے۔تیسرے یہ کہ ہڈی منہ سے چوسنا سنت ہے،کانٹے سے کھانا طریقہ نصاریٰ ہے۔چوتھے یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ وہ خوش نصیب بی بی ہے کہ بارہا انکا لعاب حضور کے لعاب کے ساتھ جمع ہوا،خصوصًا وفات شریف کے وقت مسواک میں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہڈی چوسنا،گوشت چوسنا،گوشت چھوڑانے کے لئے نہ ہوتا تھا وہ تو پہلے چھوٹ چکا ہوتا تھا بلکہ محبوبیت ظاہر فرمانے کے لئے۔
|
548 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يتكئ على حجري وَأَنا حَائِض ثمَّ يقْرَأ الْقُرْآن |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تکیہ لگاتے حالانکہ میں حائضہ ہوتی پھر قرآن تلاوت کرتے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ معلوم ہواکہ حائضہ عورت کے زانویاگود میں سررکھ کر قرآن پڑھنا جائز ہےکیونکہ حائضہ کی نجاست حکمی ہے حقیقی نہیں۔مردہ غسل دینے سے پہلے نجس حقیقۃً بھی ہوتا ہے اس لئے قبل غسل اس کے پاس بلا ڈھکے ہوئے قرآن پڑھنا منع ہے،لہذا یہ حدیث اس مسئلے کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ کی گود قرآن اور قرآن والے محبوب کی رحل بنی،اس وقت بھی اورحضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت بھی،کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وصال آپ کی گود میں ہوا اور آپ کا حجرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ بنا،لہذا آپ کی گود اور آپ کا حجرہ عرش عظیم سے بڑھ کرہے،اﷲ تعالٰی اس دامن میں مجھ سے نالائق گنہگارکوجگہ دے۔آمین!شعر
انکا پہلو ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ ان کے حجرہ میں قیامت تک بنی ہیں جاگزیں
|
549 -[5] وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ» . فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ: «إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يدك» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں مجھے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد سے ہم کو چٹائی دے دو میں بولی کہ میں تو حائضہ ہوں فرمایاتمہاراحیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی تم کو اس حالت میں مسجدمیں جانا منع ہے نہ کہ وہاں سے ہاتھ بڑھاکرکچھ لے لینا۔اب بھی یہ ہی مسئلہ ہے کہ حائضہ وجنبی مسجد سے باہررہتے ہوئے مسجدمیں ہاتھ ڈال کرچیزاٹھاسکتے ہیں۔اس حدیث میں چٹائی سے مرادحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ملک کی چٹائی ہوگی نہ کہ مسجد کی وقف چٹائی کیونکہ موقوفہ چٹائی کو گھرمیں لاکر اس پرنمازممنوع ہے۔
|
550 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مِرْطٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ وَبَعْضُهُ عَلَيْهِ وَأَنا حَائِض |
رو ایت ہے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاسے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر میں نماز پڑھتے تھےجس کا کچھ حصہ مجھ پر ہوتا اورکچھ حصہ حضورپرحالانکہ میں حائضہ ہوتی ۱؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع