30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی انکے دین کادارومدارہماری مخالفت پرہے کہ جسے ہم براجانیں اسے یہ جائزکہہ دیتے ہیں۔یہودکی یہ بکواس اسلام اورپیغمبراسلام پربہتان تھی،اسلام نےکسی کی ضدمیں اچھی چیزکو برا اور بری چیزکو اچھا نہ کہا۔
۵؎ آپ انصاری ہیں،اوسی ہیں،حضرت مصعب ابن عمیر کے ہاتھ پر سعد ابن معاذ سے پہلے اسلام لائے،دوسری بیعت عقبہ میں شریک تھے،بدر اور تمام غزوات میں حضور کیساتھ رہے۔
۶؎ آپ انصاری ہیں،قبیلۂ بنی عبدالاشہل سے ہیں،حضور کی ہجرت سے پہلے مصعب کے ہاتھ پر اسلام لائے،تمام غزوات میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔
۷؎ تاکہ یہودکی پوری مخالفت ہوجائے۔اس سے معلوم ہواکہ صحابہ کرام کے دلوں میں کفار سے نفرت کمال درجہ کی تھی اوریہ نفرت کمال ایمان کی علامت ہے۔
۸؎ حضورکایہ اظہارغضب بڑی مصلحت پرمبنی تھاوہ یہ کہ منصوص احکام کسی قوم کی مخالفت کے لئے نہیں بدلے جا سکتے،داڑھی رکھنااورمونچھیں کٹانا اسلام کا حکم ہے،لیکن اب سکھوں کی مخالفت کے لئے داڑھی منڈائی نہ جائے گی۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض احکام صراحۃً دیئے جاتے ہیں،بعض اشارۃً۔
|
546 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكِلَانَا جُنُبٌ وَكَانَ يَأْمُرُنِي فَأَتَّزِرُ فَيُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ وَكَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ إِلَيَّ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِض |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے حالانکہ ہم دونوں جنبی ہوتے آپ مجھے حکم دیتے،میں تہبندباندھ لیتی تو مجھ سے جسم مس کرتے حالانکہ میں حائضہ ہوتی ۱؎ اور اپنا سر مبارک بحالت اعتکاف میری طرف نکال دیتے میں دھوتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ سے مسا س جائزہے مگریہ اس کے لئے ہے جواپنے نفس پرقابو رکھتاہواگر صحبت کر لینے کا اندیشہ ہوتو نہ کرے،جیسے روزے دار کے لئے بیوی کا بوسہ کہ جوان کے لئے مکروہ،بوڑھے کے لئے جا ئز۔اپنا واقعہ اس لئے ارشاد فرمایا تاکہ معلوم ہوکہ میں سنی سنائی نہیں کہہ رہی ہوں بلکہ تجربہ سے کہتی ہیں میراخودعمل رہا یہ ایک قسم کی تبلیغ ہے بے تہذیبی نہیں۔آج ڈاکٹرطبی مسائل نہایت کھلے کھلے بیان کرتے ہیں،قرآن کریم فرماتا ہے:"لِفُرُوۡجِہِمْ حٰفِظُوۡنَ"اسے بدتہذیبی کہناحماقت ہے۔
۲؎ کیونکہ حضور کے حجرے کا دروازہ مسجد میں تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ معتکف مسجد سے نکل نہیں سکتا لیکن بعض اعضاءنکال سکتا ہے۔ اور حائضہ اپنے خاوند کی خدمت کرسکتی ہے کہ اس کے جسم کو چھو سکتی ہے۔
|
547 -[3] وَعَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعٍ فِيَّ فَيَشْرَبُ وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَيَضَع فَاه على مَوضِع فِي. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے کہ میں بحالت حیض پیتی پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو وہی برتن دے دیتی تو آپ اپنا منہ شریف میرے منہ والی جگہ پر رکھ کر پیتے اور میں بحالت حیض ہڈی چوستی پھر آپ کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ شریف میرے منہ کی جگہ رکھتے ۱؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع