30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان حکموں میں غسل جنابت کا حکم وجوبی ہے اور باقی احکام سنت کے،چونکہ سنگھی پچھنے میں خون کی چھینٹیں جسم پر پڑجاتی ہیں اورخون نکلنے سے گرمی اور کمزوری پیداہوجاتی ہے لہذا اس کے بعدغسل کرلینا بہتر ہے۔
|
543 -[7] وَعَن قيس بن عَاصِم: أَنَّهُ أَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ |
روایت ہے قیس ابن عاصم سے ۱؎ کہ وہ مسلمان ہوئے تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پانی اوربیری سے غسل کریں ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،تمیم کے وفد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، ۹ھ میں ایمان لائے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دبر والوں یا بادیہ نشینوں کے سردار ہیں،بہت حکیم،عاقل و عابد تھے،بصرہ میں قیام رہا۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام لاتے وقت کلمہ پڑھنے سے پہلےغسل کرنا بہتر ہے۔کہ بعض علماء کے نزدیک اگر کافر زمانۂ کفر میں جنبی ہوا،پھر اسلام لایا تو اس پر جنابت کی وجہ سے غسل فرض ہے۔بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سرمنڈانے کا حکم بھی دیا تھا اسی لئے اسلام لاتے وقت سر منڈانابھی سنت ہے۔
|
544-[8] عَن عِكْرِمَة: إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَاءُوا فَقَالُوا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَرَى الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ أَطْهَرُ وَخَيْرٌ لِمَنِ اغْتَسَلَ وَمَنْ لَمْ يَغْتَسِلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ. وَسَأُخْبِرُكُمْ كَيْفَ بَدْءُ الْغُسْلِ: كَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَعْمَلُونَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَكَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ إِنَّمَا هُوَ عَرِيشٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَرِقَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الصُّوفِ حَتَّى ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ آذَى بِذَلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا. فَلَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الرّيح قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ جَاءَ اللَّهُ بِالْخَيْرِ وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوفِ وَكُفُوا الْعَمَلَ وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمُ وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِي كَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنَ الْعَرَقِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ کچھ عراقی لوگ آئے۲؎ اور بولے کہ اے ابن عباس کیا آپ جمعہ کے دن کا غسل واجب سمجھتے ہیں فرمایا نہیں،لیکن یہ بہت پاکی ہے اورغسل کرنے والے کے لیئے اچھا ہے اور جوغسل نہ کرے اس پر ضروری نہیں۳؎ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل شروع کیسے ہوا۔ لوگ مشقت میں تھے کہ اون پہنتے اور اپنی پیٹھ پرمزدوریاں کرتے تھے ان کی مسجد تنگ تھی جس کی چھت نیچے تھی جو صرف چھپر(خس پوش)تھی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم ایک گرم دن میں تشریف لائے اور لوگ اسی اون میں پسینہ پسینہ تھے کہ ان سے بو پھیل گئی جس کی وجہ سے بعض نے بعض سے تکلیف پائی۴؎ تو جب رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بو پائی ۵؎ تو فرمایا اے لوگو جب یہ دن ہواکرے تونہالیاکرو،اور چاہیئے کہ ہرایک اپنا بہترین تیل و خوشبو مل لیا کرے ۶؎ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پھر اﷲ نے مال دیا۷؎ اورلوگوں نے اون کے علاوہ اچھے لباس پہنے اور کام کاج سے چھوٹ گئے ۸؎ ان کی مسجد فراخ ہوگئی ۹؎ اور پسینہ سے جو بعض کو بعض سے تکلیف پہنچتی تھی وہ جاتی رہی۔(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع