30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہاں ایک دن سے مراد جمعہ کا دن ہے جیسا کہ دوسری روایتوں سے معلوم ہوا۔اورلزوم سے لغوی لزوم مراد ہے نہ کہ شرعی۔مطلب یہ ہے کہ ہفتہ میں جمعہ کے دن غسل کرلینا چاہیئے تاکہ بدن بھی صاف ہوجائے او کپڑے بھی اور جمعہ کی بھیڑ میں مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو،چونکہ سرمیں میل جوئیں زیادہ ہوجاتی ہیں،اس لئے خصوصیت سے اس کا ذکر کیا ورنہ جسم میں یہ بھی داخل تھا۔غسل میں کلی اورناک میں پانی لینا اور تمام جسم کا دھونا ہمارے ہاں فرض ہے۔غسل سے پہلے وضوکرلینا داہنی طرف سے ابتداءکرنا سنتیں۔
|
540 -[4] عَن سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جمعہ کے دن وضو کرے تو خیراور اچھا کیا اورجونہائے تونہانا بہت اچھا ہے ۱؎ (احمد،ابوداؤد،ترمذی، نسائی،دارمی) |
۱؎ یہ حدیث جمہور علماء کی دلیل ہے کہ غسل جمعہ فرض یا واجب نہیں سنت ہے۔اس کی تائیدمسلم شریف کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ فرمایاحضورنے جوجمعہ کے دن غسل کرکے نمازکے لئے آئے،مجھ سے قریب بیٹھے،خاموشی سے خطبہ سنے تو اس کے دس دن کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
|
541 -[5] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ: «وَمَنْ حمله فَليَتَوَضَّأ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ا ﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جومیت کوغسل دے وہ خودبھی غسل کرے ۱؎(ابن ماجہ)احمدوترمذی نے یہ بھی زیادہ کیا کہ جومیت کو اٹھائے وہ وضو کرے ۲؎ |
۱؎ عام علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے۔میت کو نہلا کر غسل کر لینا بہتر ہےکیونکہ میت کے غسالہ کے چھینٹے جسم پر پڑھنے کا احتمال ہے۔جامع اصول میں ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق کی زوجہ اسماءبنت عمیس نے صدیق اکبرکی وفات کے بعدغسل دیاپھرصحابہ سے بولیں کہ میں روزے دارہوں اور ٹھنڈک بہت ہے کیا مجھے غسل کرنا ضروری ہے؟سب نے کہا نہیں۔
۲؎ اٹھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ نماز جنازہ کے لئے کہ میت کے جنازہ گاہ میں پہنچتے ہی نمازجنازہ میں شرکت کرسکے۔
|
542 -[6] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَربع: من الْجَنَابَة وَمن يَوْم الْجُمُعَة وَمن الْحجام وَمن غسل الْمَيِّت. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چارچیزوں سے غسل کرتے تھےجنابت(ناپاکی)سے اورجمعہ کے دن اورسنگھی لگوانے سے اور میت کو نہلانے سے ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یہاں غسل سے مراد غسل کا حکم دینا ہے،یعنی ان چاروں موقعوں پرغسل کا حکم دیتے تھے،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی میت کو غسل نہیں دیا،جیسے حدیث میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز کو رجم کیا یعنی رجم کا حکم دیا(مرقاۃ وغیرہ) مگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع