30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
534 -[9] وَقَدْ رَوَى هُوَ وَأَبُو دَاوُدَ أَيْضًا عَنْ عَطاء بن يسَار مُرْسلا |
اور نسائی وابوداؤدنے عطاابن یسارسے مرسلًاروایت کی۔ |
|
535 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن أبي الْجُهَيْم الْأنْصَارِيّ قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَام |
روایت ہے حضرت ابو الجہیم ابن حارث ابن صمہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہ جمل کی طرف سے تشریف لائے ۱؎ تو آپ کو ایک شخص ملا اس نے سلام کیاحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کے پاس تشریف لائے توچہرہ اورہاتھوں کا مسح کیاپھراسے سلام کاجواب دیا۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ جمل ایک بستی ہے جسے مدینہ بھی کہتے ہیں،یہ کنواں اس کی طرف منسوب ہے اوراب اس بستی کا نام بئر جمل ہوگیا،یہیں حضرت علی مرتضیٰ و عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کی جنگ ہوئی۔
۲؎ یعنی تیمم کے بعد اس کا ذکر ابھی کچھ پہلے گزر چکا۔اورپوری تحقیق "بَابُ مُخَالَطَۃِ الْجُنُبِ"میں بھی گزر گئی۔
|
536 -[11] وَعَن عمار بن يَاسر: أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّعِيدِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ ثُمَّ مَسَحُوا وُجُوههم مَسْحَةً وَاحِدَةً ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ مِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے وہ بیان کرتے تھے کہ صحابہ نے پاک مٹی سے نمازفجرکے لیئے تیمم کیا جب کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو انہوں نے مٹی پراپنے ہاتھ پھیرے پھر ایک بار اپنے منہ پر ہاتھ پھیرلیا پھردوبارہ مٹی پر ہاتھ مارے تو اپنی ہتھیلیوں سے پورے ہاتھوں کا کندھوں اور بغلوں تک مسح کیا ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ اس حدیث کی بناء پر امام زہری فرماتے ہیں کہ تیمم میں ہاتھوں کا مسح بغلوں تک کیا جائے مگر صحیح یہی ہے کہ کہنیوں تک مسح ہو،کیونکہ تیمم وضوءکانائب ہے اوروضوءمیں ہاتھ کہنی تک ہی دھوئے جاتے ہیں۔ ان صحابہ کا یہ عمل اپنے اجتہاد سے تھا نہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے،انہوں نے قرآن کریم کی یہ آیت دیکھی"فَامْسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمْ وَاَیۡدِیۡکُمۡ مِّنْہُ"۔اوربعض صحابہ کا اجتہاد واجب العمل نہیں خصوصًا جب کہ حدیث مرفوع کے مخالف واقع ہوجائے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وضوءمیں بغل تک ہاتھ دھوتے تھے۔حضرت عمار ابن یاسرغسل کے تیمم کے لیئے زمین پر لوٹے تھے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع