30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں وفات پائی،جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔فقیر نے قبر انور کی زیارت کی ہے۔اسلام پہلے لاچکے تھے،بدر میں مجبورًا کفار کے ساتھ آئے تھے،اپنی ہجرت کے دن اسلام ظاہر کیا،آپ آخری مہاجر ہیں۔
۲؎ اﷲ کی ربوبیت سے راضی ہونا یہ ہے کہ راضی بقضاء ہے،بیمار طبیب کی کڑوی دوا اور آپریشن سے بھی راضی ہوتا ہے۔اسلام کے دین ہونے پر راضی ہونے کا یہ مطلب ہے کہ احکام اسلام بخوشی قبول کرے،کسی حکم پر زبان طعن نہ کھولے۔حضورعلیہ السلام کی نبوت پر رضا یہ ہے کہ آپ کی سنتوں سے محبت کرے،آپ کی اولاد،مدینہ منورہ،بلکہ جس چیزکو حضورسے نسبت ہو اس سے محبت کرے۔یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں۔جسے یہ تین اوصاف نصیب ہوں گے اسےگزشتہ تین چیزیں بھی مل جائیں گی۔
|
10-[9] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يسمع بِي أحدق مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ من أَصْحَاب النَّار» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے قبضہ میں میری جان ہے اُس کی قسم،اس امت میں سے ۱؎ کوئی یہودی عیسائی میرا نام سُن لے پھر ایمان لائے بغیرمرجائے اس پر جو مجھے دے کربھیجا گیامگر وہ دوزخی ہوگا۲؎ |
۱؎ امت سےمراد امت دعوت ہے،یعنی سارے انسان یہودی عیسائی اس کا بیان ہے مشرکین وغیرہ کفارہ خود بخود اس میں داخل ہوگئے کہ جب یہودونصاریٰ پربھی اسلام لانا ضروری ہوا،جو پہلے پیغمبروں پرایمان لاچکے ہیں تو جو سرے سےکسی نبی کو مانتے ہی نہیں ان پر یقینًا اسلام لانا ضروری ہے۔
۲؎ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ تمام مخلوق پر حضور کی اطاعت لازم ہے کسی ملک،کسی قبیلہ،کسی زمانہ کا ہو جو خدا کا بندہ ہے اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت لازم۔دوسرے یہ کہ جسے حضور کی نبوت کی اطلاع نہ پہنچے وہ معذور ہے اس کی نجات کے لیے صرف عقیدۂ توحید کافی ہے۔لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کریمین مغفور وجنتی ہیں کہ وہ حضرات مؤحد تھے اور حضور کی نبوت سے پہلے وفات پاگئے۔اس مسئلہ کی پوری تحقیق ہماری"تفسیرنعیمی"پارہ اول میں دیکھو۔
|
11 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمِهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ " |
روایت ہے ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین شخص وہ ہیں جنہیں ڈبل ثواب ملتا ہے وہ کتابی جو اپنے نبی پربھی ایمان لائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ۲؎ غلام مملوک جب اﷲ کا حق بھی اداکرے اور اپنے مولاؤں کا بھی۳؎ اور وہ شخص جس کے پاس لونڈی تھی جس سےصحبت کرتا تھا اُسے اچھا ادب دیا اور اچھی طرح علم سکھایا پھر اُسے آزاد کرکے اس سے نکاح کر لیا اُس کے لیے دوہرا ثواب ہے۴؎ |
۱؎ آپ قدیم الاسلام صحابی ہیں،نام عبداﷲ ابن قیس ہے،قبیلہ بنی اشعرسے ہیں،یمن سے مکہ معظمہ آکر مسلمان ہوئے،اوّلًا حبشہ پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی،بصرہ کے حاکم رہے،علی مرتضٰی نے آپ کو اپنا پنچ بنایا،صلح امیر معاویہ کے موقعہ پر ۵۲ھمیں مکہ معظمہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع