30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
530 -[5] عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسلم وَإِن لم يجد لاماء عشر سِنِين فغذا وجد المَاء فليمسه بشره فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ: عَشْرَ سِنِين |
روایت ہے ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پاک مٹی مسلمان کا آب وضو ہے اگرچہ دس سال پانی نہ پائے ۱؎ پھر جب پانی پائے تو اس سے اپنا بدن دھوئے کہ یہ یقینًا بہتر ہے۲؎ (احمد،ترمذی،ابوداؤد)نسائی نے اس کی مثل روایت کی دس سال کے قول تک۔ |
۱؎ یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ تیمم وضو کی طرح طہارت مطلقہ اور کاملہ ہے،لہذا ایک تیمم سے ایک وقت میں بھی چند نمازیں پڑھ سکتے ہیں اور ایک وقت کے تیمم سے کئی وقت تک نمازیں پڑھ سکتے ہیں کیونکہ اسے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے وضو قراردیا تو جووضو کا حکم ہے وہی اس کا حکم ہے۔امام شافعی کے ہاں تیمم ضرورت طہارت ہے کہ وقت نماز نکل جانے سے تیمم ٹوٹ جاتا ہے اور ایک تیمم سے چند نمازیں نہیں پڑھ سکتے۔سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ آپ ہرنماز کے لیے الگ تیمم کرتے تھے۔یہ استحبابًا تھا جیسے وضو پر وضوکرلینا۔
۲؎ بہترسے مراد اصل ہے یعنی پانی اصل طہارت ہے اور اس کی عدم موجودگی میں تیمم اس کا نائب،جب اصل آگیاتو نائب کی گنجائش نہ رہی۔اس کامطلب یہ نہیں کہ تیمم بھی جائزہےمگر وضوبہتر،رب فرماتاہے :"اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَئِذٍ خَیۡرٌ مُّسْتَقَرًّا"۔
|
531 -[6] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رجلا منا حجر فَشَجَّهُ فِي رَأسه ثمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابه فَقَالَ هَل تَجِدُونَ لي رخصَة فِي التَّيَمُّم فَقَالُوا مَا نجد لَك رخصَة وَأَنت تقدر على الْمَاءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أخبر بذلك فَقَالَ قَتَلُوهُ قَتلهمْ الله أَلا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَن يتَيَمَّم ويعصر أَو يعصب شكّ مُوسَى عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِر جسده. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفرمیں گئے تو ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگ گیا جس نے اس کے سرمیں زخم کردیا پھر اسے احتلام ہوگیا تو اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم میرے لیئے تیمم کی اجازت پاتے ہو وہ بولے تیرے لیئے تیمم کی اجازت نہیں پاتے ۱؎ تو تَو پانی پر قادر ہے اس نے غسل کرلیا پس مر گیا۲؎ جب ہم حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو اس کی خبر دی گئی فرمایا انہیں خداغارت کرے اسے انہوں نے ماردیا۳؎ جب جانتے نہ تھے پوچھ کیوں نہ لیا بے علمی کا علاج پوچھ لینا ہے۴؎ اسے یہ کافی تھا کہ تیمم کرلیتا اوراپنے زخم پرکپڑا لپیٹ لیتاپھر اس پر ہاتھ پھیرلیتا اورباقی جسم دھو ڈالتا۵؎ (ابوداؤد) |
۱؎ مگر وہ سمجھے کہ تیمم بیمار کے لئے نہیں صرف پانی نہ ملنے کی حالت میں ہے کیونکہ رب فرماتا ہے:"فَلَمْ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا" یہ ہے اجتہاد کی غلطی اورخطاء۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع