30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
522 -[6] وَعنهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يمسح على الْخُفَّيْنِ على ظاهرهما. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزوں کے اوپر مسح کرتے تھے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ یہ حدیث صحیح بھی ہے اورمتصل بھی اس میں صرف ظاہرموزہ کا ذکر ہے نیچے کا نہیں،یہی ہمارے امام صاحب کا قول ہے۔
|
523 -[7] وَعَن الْمُغيرَة بن شُعْبَة قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوکیا اورجرابوں اورپاتابوں پرمسح کیا ۱؎ (احمد ترمذی ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ اونی یا سوتی موزوں کو جراب کہا جاتا ہے۔ان پرمسح تین صورتوں میں جائزہے:ایک یہ کہ بہت موٹے ہوں کہ بغیر باندھے پندلی پرٹھہر جائیں،چلنے پھرنے سے ڈھلک نہ جائیں۔دوسرے یہ کہ اس کے صرف تلے میں چمڑا سلا ہو جسے منعّل کہتے ہیں۔تیسرے یہ کہ اس کے ظاہری قدم پر بھی چمڑا سلا ہو جسے مجلد کہتے ہیں۔یہاں پہلی صورت کی جرابیں مراد ہیں یعنی موٹی نعلین سوتی پاتابےکہلاتے ہیں جو جرابوں پران کی حفاظت کے لیے پہنے جاتے ہیں۔اگر یہ باریک ہوں کہ مسح کی تری جراب تک پہنچ جائے توان پر مسح جائز ہے ورنہ نہیں۔
|
524 -[8] وَعَن الْمُغيرَة بن شُعْبَة قَالَ: مَسَحَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نسيت؟ قَالَ: بل أَنْت نسيت بِهَذَا أَمرنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت مغیرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پرمسح کیا میں نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا آپ بھول گئے فرمایا بلکہ تم بھول گئے مجھے میرے رب عزوجل نے اسی کا حکم دیا ۱؎ (احمد،ابوداؤد) |
۱؎ چونکہ حضرت مغیرہ نے اس سے پہلے موزوں کا مسح نہ دیکھا تھا،اس لیے یہ سوال کیااور بزرگوں کی طرف بھول کی نسبت کرنا خود اپنی غلطی اور بھول ہے،اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم طریقۂ ادب بھول گئے۔اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ موزوں پر مسح قرآن شریف سے بھی ثابت ہے،کیونکہ"وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیۡنِ" میں ایک قرات اَرْجُلْ کے لام کے کسرہ سے بھی ہے اور عام قرات فتح سے۔مطلب یہ ہوا کہ موزے پہنے ہوں تو مسح کرو،نہ پہنے ہوں تو دھولو۔اورممکن ہے کہ یہاں اﷲ کا حکم سے مراد وحی خفی ہو۔
|
525 -[9] وَعَن عَليّ رَضِي الله عَنهُ قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ على ظَاهر خفيه رَوَاهُ أَبُو دَاوُد للدارمي مَعْنَاهُ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں اگر دین رائے سے ہوتا تو موزوں کے نیچے مسح کرنا اوپر مسح کرنے سے بہتر ہوتا میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ موزوں کے اوپر مسح کرتے تھے ۱؎ (ابوداؤد)دارمی نے اس کے معنی کی روایت کی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع