30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ کا نام شریف نفیع ہے،ثقفی ہیں،مشہورصحابی ہیں،غزوۂ طائف میں ایمان لائے،آخرعمرشریف میں بصرہ میں قیام رہا، ۴۹ھ میں وہیں وفات پائی۔
۲؎ اس کی پوری شرح اور اس سے مسائل کا استنباط پہلےگزر چکا۔عام علماء کا یہی قول ہے کہ مسافر تین دن سے زیادہ اور مقیم ایک دن سے زیادہ مسح نہیں کرسکتے۔ہاں حنفیوں کے نزدیک یہ مدت حدث کی وقت سے شروع ہوگی۔
۳؎ منتقی ابن تیمیہ حنبلی کی کتاب ہے۔(مرقاۃ)شیخ فرماتے ہیں کہ یہ خطابی کی تصنیف ہے۔
|
520 -[4] وَعَن صَفْوَان بن عَسَّال قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت صفوان ابن عسال ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم کوحکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں ہوں تو تین دن رات موزے نہ اتاریں ۲؎ مگر جنابت سے لیکن پاخانہ پیشاب اورنیند سے(موزے نہ اتاریں)۳؎ (ترمذی،نسائی) |
۱؎ مشہورصحابی ہیں،قبیلہ بنی مراد سے ہیں،کوفہ میں قیام رہا،حضور کے ساتھ بارہ غزووں میں شریک رہے۔
۲؎ یہ حکم اجازت کا ہے نہ کہ وجوبی،کیونکہ مسافرکو تین دن تک مسح کرناجائز ہے۔
۳؎ یعنی حدث اصغر میں موزوں کا مسح درست اورحدث اکبر میں ناجائز،غسل میں پاؤں دھونا ہی فرض ہیں۔اس عبارت میں عجیب لطف ہے کہ اِلَّا نے نفی توڑکرثبوت کیا،پھر لٰکِنْ نے اِلَّا کا ثبوت توڑ کر نفی پیدا کی،اس پر نحویوں نے معرکۃ الآرا بحثیں کی ہیں۔
|
521 -[5] وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفِّ وَأَسْفَلَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ مَعْلُولٌ وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ وَمُحَمَّدًا يَعْنَى الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَا: لَيْسَ بِصَحِيحٍ. وَكَذَا ضعفه أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے غزوۂ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کووضوکرایا تو آپ نے موزے کے اوپر نیچے مسح فرمایا ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث معلول ہے اورمیں نے ابوزرعہ اورمحمد یعنی امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھاتو ان بزرگوں نے فرمایا کہ صحیح نہیں یوں ہی ابوداؤد نے اسے ضعیف فرمایا۲؎ ۔ |
۱؎ یہ حدیث ضعیف ہے،اور ان احادیث کے خلاف ہے جن میں صرف اوپر کے مسح کا ذکر ہے،لہذا لائق عمل نہیں،مسح صرف موزے کے اوپر ہوگا نہ کہ نیچے،جیسا کہ اگلی احادیث میں آرہا ہے۔یہی ہمارے امام صاحب کا مذہب ہے۔اورہوسکتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپناتلوہ دوسرے ہاتھ سے پکڑکراٹھایاہواور داہنے ہاتھ سے اوپرمسح کیاہودیکھنے والے سمجھے کہ آپ نیچے بھی مسح کررہے ہیں۔
۲؎ اس حدیث کے ضعف کی دو وجہیں ہیں:ایک یہ کہ اس کی اسناد حضرت مغیرہ تک متصل نہیں،بلکہ اس کے راوی وَرّاد ہیں،یعنی حضرت مغیرہ کے غلام۔دوسرے یہ کہ اس کی اسناد میں ثور ابن یزید،رجا ابن حَیْوَہ جیسے راوی ہیں،اور ثور کی ملاقات رجا سے ثابت نہیں،نیز یہ حدیث حضرت مغیرہ کی اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں فقط اوپرکا ذکرہے،لہذاحدیث میں اضطراب بھی ہے۔
|
522 -[6] وَعنهُ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يمسح على الْخُفَّيْنِ على ظاهرهما. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزوں کے اوپر مسح کرتے تھے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع