30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
518 -[2] وَعَن عُرْوَة بن الْمُغيرَة بن شُعْبَة عَن أَبِيه قَالَ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ. قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِط فَحملت مَعَه إدواة قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ من الإدواة فَغسل كفيه وَوَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَن ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كم الْجُبَّة فَأخْرج يَده مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَغسل ذِرَاعَيْهِ وَمسح بناصيته وعَلى الْعِمَامَة وعَلى خفيه ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاة يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ذهب يتَأَخَّر فَأَوْمأ إِلَيْهِ فصلى بهم فَلَمَّا سلم قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَة الَّتِي سبقتنا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں شرکت کی مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم ایک دن فجرسے پہلے پاخانے گئے میں آپ کے ساتھ ایک برتن لے گیا ۱؎ جب واپس آئے تو آپ کے ہاتھ شریف پر برتن سے پانی ڈالنے لگا آپ نے اپنا ہاتھ اورمنہ دھویا۲؎ آپ پر اونی جبہ تھا آپ کہنیوں سے چڑھانے لگے لیکن جبے کی آستین تنگ تھی ۳؎ تو آپ نے اپنے ہاتھ شریف جبے کہ نیچے سے نکالے اور جبہ اپنے کندھوں پرڈال لیا ۴؎ کہنیوں تک ہاتھ دھوئے،پھر پیشانی اورپگڑی پر مسح کیا۵؎ پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے کا ارادہ کیا فرمایا انہیں رہنے دوکیونکہ میں نے انہیں پاکی پر پہنا ہے۶؎ پھر ان پرمسح فرمالیا،پھر آپ سوار ہوئے اور میں بھی ہم قوم تک پہنچے جونماز کے لیئے کھڑے ہوچکے تھے انہیں عبدالرحمان ابن عوف نماز پڑھا رہے تھے ایک رکعت پڑھا چکے تھے ۷؎ جب انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا۸؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پائی جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضور انور کھڑے ہو گئے میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا جو رکعت رہ گئی تھی ہم نے پڑھ لی ۹؎(مسلم) |
۱؎ تاکہ حضور پانی سے استنجاء اور وضو کریں۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کی خدمت کے لیے حاضر رہنا اور بغیر حکم کے تیاریٔ خدمت کرنا سنت صحابہ ہے اورنمازکی تیاری وقت نمازسے پہلے سنت ہے۔
۲؎ اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ وضو میں دوسرے سے مدد لینا سنت سے ثابت ہے۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کو اس طرح وضوکرانا کہ لوٹا خادم کے ہاتھ میں ہوسنت صحابہ ہے۔خیال رہے کہ یہاں کلی اور ناک میں پانی کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ یہ دونوں چہرے میں داخل ہیں۔
۳؎ پشمینہ اور انکے لباس پہنناجوکہ صوفیائے کرام کا طریقہ ہے،اسی لئے انہیں صوفی کہا جاتا ہے(صوف والے)۔اس کا ماخذ یہ حدیث ہے حضورکی آستین خوب کشادہ ہوتی تھیں یہ تنگ آستینوں والا جبہ کسی جہاد میں غنیمتًا آیا ہوگا۔یہاں مرقاۃ نے فرمایا کہ اس حدیث سے معلوم ہواکفار کے بنائے ہوئے کپڑے اور دوسرے ملک کی وضع کا لباس پہننا جائز ہے،ان کپڑوں پرخوامخواہ ناپاک ہونے کا وہم نہ کرو۔حضرت عمر فاروق نے حَیرہ کے حلے پہننے سے ممانعت فرمائی اورفرمایاسناگیاہے کہ وہ لوگ کپڑے پیشاب سے دھوتے ہیں،ابی ابن کعب نے عرض کیا کہ عہدنبوی میں یہ جوڑے ہم نے بھی پہنے ہیں اورحضورنے بھی تب آپ نے اپنا حکم واپس لیا۔دوسری قوم کا لباس پہننا جائز ہے۔بشرطیکہ وہ کفاریافساق کی علامت نہ ہو۔
۴؎ نیچے قمیض اورتہبندبھی تھا،ورنہ بے پردگی ہوتی۔اس سے معلوم ہواکہ بیک وقت کرتہ واسکٹ اچکن وغیرہ چند کپڑے پہنناجائزہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع