30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ چونکہ وضو کُل ہے اور مسح جز،نیز موزے کا مسح پاؤں دھونے کا نائب ہے اس لیے اس باب کو وضو کے بعد لائے۔خیال رہے کہ مسح موزے پر ہوتا ہے نہ کہ موزے میں،نیز چمڑے کے موزے پر مسح ہوگا نہ کہ باریک کپڑے یا سوت کے اس لیئے مصنف نے عَلٰی اور خُفَّین ارشاد فرمایا۔خیال رہے کہ موزے کا مسح اشارۃً قرآن شریف سے اور صراحۃً بے شمار احادیث سے ثابت ہے،لہذا اس کا انکار گمراہی ہے۔حضرت انس سے پوچھا گیا کہ اہل سنت کی علامت کیا ہے،فرمایا"تَفْضِیْلُ الشَّیْخَیْنِ وَحُبُّ الْخَتَنَیْنِ وَالْمَسْحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ"۔خواجہ حسن بصری کہتے ہیں کہ میں نے ستر صحابہ سے ملاقات کی سب موزوں پر مسح کے قائل تھے۔امام کرخی فرماتے ہیں کہ مسح کے منکر کے کفر کا اندیشہ ہے کیونکہ موزے کا مسح متواتر احادیث سے ثابت ہے۔خیال رہے کہ ابن عباس و عائشہ صدیقہ نے اولًا اس مسح کا انکار کیا تھا،پھر تمام صحابہ کی موافقت فرمائی،حضرت عائشہ صدیقہ بھی مسح کی قائل ہیں۔وہ جو کہا جاتا ہے کہ آپ فرماتی ہیں میرا پاؤں کٹ جائے تو اچھا موزے پر مسح کرنے سے،یہ محض غلط اوربناوٹی ہے۔
|
517 -[1] عَن شُرَيْح بن هَانِئ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت شریح ابن ہانی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب سے موزوں پر مسح کے متعلق پوچھا۲؎ فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیئے تین دن رات اور مقیم کے لیئے ایک دن رات مقرر فرمائی ۳؎(مسلم) |
۱؎ آپ تابعی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ شریف میں پیدا ہوچکے تھے،آپ کے والد ہانی صحابی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی کنیت ابو شریح رکھی،حضرت علی مرتضی کے مخصوص ساتھیوں میں سے ہیں۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ آپ کا سوال مدت مسح کے متعلق تھا نہ کہ طریقۂ مسح یا دلائل مسح کے متعلق،جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے۔
۳؎ یعنی مسافر بحالت سفر ایک بار موزے پہن کر مسلسل تین دن و رات مسح کرسکتا ہے۔اورمقیم ایک دن و رات۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم مالک احکام ہیں کہ علی مرتضی نے اس مدت کی تعیین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کی۔دوسرے یہ کہ مدتیں ان لوگوں کے لئے ہیں جو اول سے آخر تک ایک حال پررہیں،یعنی مثلًا پہنتے وقت بھی مقیم ہوں اور آخر تک مقیم رہیں۔اگر پہنتے وقت تو مقیم تھامگر مدت ختم ہونے سے پہلے مسافر ہوگیا تو اب مسافر کی مدت پوری کرے گا۔یوں ہی مسافر اگر مقیم ہوجائے تو مقیم کی مدت پوری کرے۔تیسرے یہ کہ مسح کی مدت حدث کے وقت سے شروع ہوگی کہ نہ پہننے کے وقت سے،نہ مسح کے وقت سے۔چوتھے یہ کہ شرعًا مسافر وہ ہے جو تین دن کی راہ کا سفر کرے اس سے کم سفر سے مسافر نہ ہوگا۔ورنہ ایک دن مسافت کا مسافر اس حدیث پر عمل نہیں کرسکتا،حالانکہ حدیث ہرمسافر کو عام ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔
|
518 -[2] وَعَن عُرْوَة بن الْمُغيرَة بن شُعْبَة عَن أَبِيه قَالَ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ. قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِط فَحملت مَعَه إدواة قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ من الإدواة فَغسل كفيه وَوَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَن ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كم الْجُبَّة فَأخْرج يَده مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَغسل ذِرَاعَيْهِ وَمسح بناصيته وعَلى الْعِمَامَة وعَلى خفيه ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاة يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ذهب يتَأَخَّر فَأَوْمأ إِلَيْهِ فصلى بهم فَلَمَّا سلم قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَة الَّتِي سبقتنا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں شرکت کی مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم ایک دن فجرسے پہلے پاخانے گئے میں آپ کے ساتھ ایک برتن لے گیا ۱؎ جب واپس آئے تو آپ کے ہاتھ شریف پر برتن سے پانی ڈالنے لگا آپ نے اپنا ہاتھ اورمنہ دھویا۲؎ آپ پر اونی جبہ تھا آپ کہنیوں سے چڑھانے لگے لیکن جبے کی آستین تنگ تھی ۳؎ تو آپ نے اپنے ہاتھ شریف جبے کہ نیچے سے نکالے اور جبہ اپنے کندھوں پرڈال لیا ۴؎ کہنیوں تک ہاتھ دھوئے،پھر پیشانی اورپگڑی پر مسح کیا۵؎ پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے کا ارادہ کیا فرمایا انہیں رہنے دوکیونکہ میں نے انہیں پاکی پر پہنا ہے۶؎ پھر ان پرمسح فرمالیا،پھر آپ سوار ہوئے اور میں بھی ہم قوم تک پہنچے جونماز کے لیئے کھڑے ہوچکے تھے انہیں عبدالرحمان ابن عوف نماز پڑھا رہے تھے ایک رکعت پڑھا چکے تھے ۷؎ جب انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا۸؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پائی جب انہوں نے سلام پھیرا تو حضور انور کھڑے ہو گئے میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا جو رکعت رہ گئی تھی ہم نے پڑھ لی ۹؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع