دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

512 -[23]

وَعَن امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِد مُنْتِنَة فَكيف نَفْعل إِذا مُطِرْنَا قَالَ: «أَلَيْسَ بعْدهَا طَرِيق هِيَ أطيب مِنْهَا قَالَت قلت بلَى قَالَ فَهَذِهِ بِهَذِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے بنی عبدالاشہل کی ایک بی بی صاحبہ سے  ۱؎ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ ہمارا مسجد کا راستہ غلیظ ہے جب بارش ہو تو ہم کیا کریں۲؎  فرمایا کیا اس کے بعد اس سے اچھا راستہ نہیں ہے میں بولی ہاں فرمایا تو وہ اس کے بدلے میں ہے ۳؎ (ابوداؤد)

۱؎   ان بی بی صاحبہ کا نام نہ معلوم ہوسکا نہ حالات زندگی مگر چونکہ صحابیہ ہیں لہذا یہ بے علمی مضر نہیں کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں،رب فرماتا ہے :"وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی

۲؎  یعنی خشک زمانہ میں وہاں گزرنا بھی آسان اور اس کی گندگی جوتوں کو لگتی بھی نہیں مگر بارش میں گندگیاں جوتوں کو لگ جاتی ہیں اس صورت میں جوتے ناپاک ہوں گے یا پاک۔

۳؎  اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ اگر جسم والی تر نجاستیں جوتے یا چمڑے کے موزے کو لگ جائیں تو وہ خشک مٹی سے رگڑ کر پاک ہوجاتے ہیں وہی یہاں مراد ہے۔ پیشاب،پتلی نجاستیں بغیر دھلے پاک نہیں ہوسکتیں،نیز کرتے کے دامن یا پائجامہ بغیر دھلے پاک نہ ہوں گے۔ لہذا یہ حدیث واضح ہے فقہی مسئلہ اس کے خلاف نہیں۔

513 -[24]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَتَوَضَّأ من الموطئ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ  علیہ  وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اورننگے پاؤں چلنے سے وضو نہ کرتے تھے ۱؎  (ترمذی)

۱؎   اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ پاؤں ہی نہ دھوتے تھے،کیونکہ اس میں نجاست نہ لگی ہوتی تھی۔صرف  ننگے پاؤں چلنا اور اس میں گردوغبار لگ جانا اسے نجس نہیں کردیتا۔ دوسرے یہ کہ اگر پاؤں نجس بھی ہوجاتے تو صرف پاؤں دھولیتے تھے وضو نہ کرتے تھے کیونکہ وضو حدث سے ٹوٹتا ہے نہ کہ کسی عضو میں ظاہری گندگی لگ جانے سے۔

514 -[25]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتِ الْكِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئا من ذَلِك. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن صحابہ اس کی وجہ سے مسجد نہ دھوتے تھے ۱؎  (بخاری)

۱؎   اس حدیث کی شرح پہلے گزر چکی۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ کتے کا جسم سوکھا ہو یا گیلا نجس نہیں اور اس کے مسجد میں آجانے کی وجہ سے زمین گندی نہ ہوگی،ہاں کتے کا لعاب ناپاک ہے یا کتانجاست میں بھیگا ہو تب اس کا جسم ناپاک۔خیال رہے کہ اس حدیث میں اسلام کے ابتدائی حالات کا ذکر ہے۔جب مسجد نبوی میں نہ دروازہ تھا نہ کوئی آڑ اور نہ مسجد کےاحترا م کے اتنے سخت احکام تھے،پھر بعد میں مسجد میں دروازے بھی لگائے گئے،کتا تو کیا وہاں نہ سمجھ بچوں کا لانا،نجس کپڑے پہن کر آنا حتّٰی کہ جس کے بدن سے بو آرہی ہو،یاجس نے کچا پیاز اورلہسن کھایا ہو،یا منہ میں بدبو ہو ان کا داخلہ تک منع  کردیاگیا،جیساکہ "باب المساجد" میں اس قسم کی بہت سی احادیث آئیں گی۔لہذا  اس حدیث کو دیکھ  کر اب مسجدوں کو بے آڑ رکھنا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن