30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
509 -[20] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھالوں سے نفع حاصل کرنے کا حکم دیا جب پکالی جائیں ۱؎ (مالک،ابوداؤد) |
۱؎ یہ حکم اباحت اور اجازت کا ہے نہ کہ وجوب کا۔مردار سے مراد خنزیر اور انسان کے سوا باقی حیوانات ہیں۔خیال رہے کہ مردار کی کھال تو پک کر پاک ہوتی ہے،لیکن ذبح شدہ جانور کی کچی کھال بھی پاک ہے،جانورحلال ہویاحرام حدیث بالکل صحیح ہے۔
|
510 -[21] وَعَن مَيْمُونَة مر على النَّبِي الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا» قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ والقرظ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت میمونہ سے فرماتی ہیں کہ قریش کے کچھ لوگ حضور پر گزرے جو اپنی مری بکری کو گدھے کی طرح کھینچ رہے تھے ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی وہ بولے کہ یہ تو مردار ہے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور ببول کے پتے پاک کردیتے ہیں۲؎(احمدوابوداؤد) |
۱؎ انکا یہ خیال تھا کہ قرآن پاک کا فرمان "حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃُ"مرادکی ہرچیزکو شامل ہے کہ نہ اس کا کھاناجائزاور نہ اس کی کسی چیز کا استعمال کسی طرح حلال،اس خیال پر وہ اسے پھینکنے کے لئے جارہے تھے۔معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کی سمجھ ناممکن ہے۔
۲؎ خیال رہے کہ کھال کی پاکی کے لئے دھونا فرض نہیں لہذایہاں پانی سے مراد کچی دباغت ہے یعنی دھوکر سکھا لینا،اورببول کی پتے اور چھال سے مرادپکی دباغت ہے،اور ہوسکتا ہے کہ پانی سے مراد دھونا ہی ہو،اور حکم استحبابی ہویعنی کھال دھوکرپکانابہت بہترہے۔
|
511 -[22] وَعَن سَلمَة ابْن المحبق: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَة تَبُوك أَتَى على بَيْتٍ فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَسَأَلَ الْمَاءَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ: «فَقَالَ دِبَاغُهَا طهورها» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن محبق سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبو ک میں ۲؎ ایک کے گھر تشریف لے گئے وہاں مشک لٹکی ہوئی تھی آپ نے پانی مانگا وہ بولے یارسول اﷲ یہ مردار کی کھال ہے فرمایا اس کا پکالینااس کی پاکی ہے۳؎ (احمدوابوداود) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،شام کے رہنے والے۔بعض لوگوں نے محبق کی ب کو زیر پڑھا ہے مگر صحیح فتح ہے۔آپ سے خواجہ حسن بصری وغیرہ نے روایت لی ہیں۔
۲؎ تبوک مدینہ منورہ اورشام کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے،غزوۂ تبوک ۹ھ میں ہوا یہ حضور کا آخری باقاعدہ غزوہ ہے۔
۳؎ ان لوگوں نے اپنے خیال میں اس مشک کو ناپاک خیال کیاہواتھا اور اس کا پانی پیتے نہ تھے بلکہ گارے وغیرہ میں استعمال کرتے تھے۔حضور نے ارشادفرمایا کہ یہ پکنے سے پاک ہوچکی ہے اس کا پانی پینا جائز ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع