30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
505 -[16] وَعَن الْمِقْدَام بن معدي كرب قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوارہونے سے منع فرمایا ۲؎(ابو داؤد،نسائی) |
۱؎ مشہور صحابی ہیں،اہل شام سے ہیں،قبیلہ بنی کندہ سے ہیں،شامیوں کا وفد اسلام لانے کے لئے جو حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اس میں آپ بھی تھے،حمّص میں قیام رہا، ۸۷ھ میں شام میں وفات پائی۔
۲؎ اس لئے نہیں کہ وہ نجس ہیں بلکہ اس لئے کہ اس سے تکبروغرور پیدا ہوتا ہے اور یہ ممانعت تنزیہی ہے۔درندوں کی کھال پرسوار ہونا،بیٹھنا،ان کی پوستین پہننا وغیرہ سب مکروہ وتقویٰ کے خلاف ہے۔
|
506 -[17] وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَزَاد التِّرْمِذِيّ والدارمي: أَن تفترش |
روایت ہے حضرت ابی الملیح ابن اسامہ سے وہ اپنے والد سے ۱؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ حضور نے درندوں کی کھالوں سے منع فرمایا ۲؎ (احمد،ابوداؤد،نسائی)اور ترمذی اور دارمی نے یہ بڑھایا یہ کہ بچھایا جائے۔ |
۱؎ آپ کا نام عامر ابن اسامہ ابن عمیر ہے،حُزلی ہیں،جلیل الشان تابعی ہیں،آپ کے والد اسامہ صحابی ہیں۔
۲؎ اس کی شرح پہلی حدیث میں گزر چکی،یعنی ان پر بیٹھنے،سوار ہونے،پہننے سے منع فرمایا اور ممانعت تنزیہی ہے۔
|
507 -[18] وَعَن أبي الْمليح: أَنه ذكره ثمن جُلُود السبَاع. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ فِي اللبَاس من جَامعه وَسَنَده جيد |
روایت ہے حضرت ابی الملیح سے کہ انہوں نے درندوں کے چمڑوں کی قیمت کوناپسندجانا ۱؎(ترمذی) |
۱؎ پکانے سے پہلے،کیونکہ وہ نجس ہے اس کی بیع جائز نہیں یاپکانے کے بعدبھی۔اس صورت میں یہ ابوالملیح کا اپنا مذہب ہے۔تمام آئمہ کے نزدیک جائز ہے۔یہ روایت ترمذی کی ہے مگر مصنف کو نہ ملی اس لیے انہوں نے یہاں سفیدی چھوڑ دی ہے۔
|
508 -[19] وَعَن عبد الله بن عكيم قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ |
اور روایت ہے عبداللہ ابن عکیم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم نہ مردار کی کھال سے نفع اٹھاؤ نہ پٹھے سے۲؎ ۔(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ) |
۱؎ آپ تابعین میں سے ہیں کہ حضور کا زمانہ پایامگر ملاقات نہ کرسکے،قبیلہ بنی باہلہ سے ہیں یا جہنیہ سے،حضرت عمر فاروق،ابن مسعود،حضرت حذیفہ سے ملاقات ہے،کوفہ میں قیام رہا۔
۲؎ کچی کھال کو اہاب کہتے ہیں اورپکی کوجلد۔مردار کی کچی کھال بھی نجس ہے اور پٹھا بھی کہ نہ اس سے نفع لیناجائز نہ اس کی تجارت حلال۔پکانے اور خشک کرنے کے بعد سب کچھ جائز ہے کہ مردار کا سینگ،ناخن وغیرہ جن میں زندگی کا اثر نہیں ہوتا اورجن کے کاٹنے سے اسے تکلیف بھی نہیں ہوتی ان سے نفع اٹھانا مطلقًاجائزہے،یہی تمام آئمہ کا مذہب ہے۔
|
509 -[20] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھالوں سے نفع حاصل کرنے کا حکم دیا جب پکالی جائیں ۱؎ (مالک،ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع