30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس حدیث سے امام شافعی فرماتے ہیں کہ منی پاک ہے کیونکہ یہ انسان کا مادۂ پیدائش ہے،کیسے ہوسکتاہے کہ ایسی پاک چیز ناپاک سے پیدا ہو،ہمارے امام صاحب کے نزدیک منی نجس ہے،ورنہ اس کے نکلنے سے غسل واجب نہ ہوتا،ہاں آسانی کے لئے خشک منی کا مل کرجھاڑدینا کافی ہے،جیسے کہ کھلیان کا گندم جس پر بیل پیشاب پاخانہ کرتے ہیں تقسیم سے پاک ہوجاتاہے،اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ گوبراور پیشاب پاک ہو۔یہ بھی ضعیف ہے کہ پاک انسان ناپاک منی سے کیسے بنا،ماں کا دودھ جو انسان کی پہلی غذا ہے حیض کے خون سے بنتا ہے،بلکہ خود منی خون سے بنی ہے تو کیا خون کو بھی پاک کہو گے۔یہ تو خدا کی شان ہے کہ ناپاک کو پاک سے اورپاک کو ناپاک سے بناتا ہے۔چنانچہ دارقطنی نے حضرت عمار ابن یاسر سے روایت کی کہ حضور نے فرمایا اے عمارپانچ چیزوں سے کپڑا دھوؤ: پیشاب،پاخانہ،قے،خون،اورمنی۔وہ جو حدیث ابن عباس مشہور ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منی تھوک و رینٹ کی طرح ہے جس کا کپڑا یاگھاس سے پونچھ دینا کافی ہے۔اولًا تو وہ حدیث صحیح نہیں اگرصحیح مان لی جائے تو ان احادیث سے مرجوح یا منسوخ ہے کیونکہ اگر اباحت و حرمت میں تعارض ہو تو حرمت کو ترجیح ہوتی ہے۔(فتح القدیرومرقاۃ واشعہ)
|
497 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أم قيس بنت مُحصن: أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا بِمَاء فنضحه وَلم يغسلهُ |
روایت ہے ام قیس بنت محصن سے ۱؎ کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو کھانا نہ کھاتا تھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں حضور نے اسے اپنی گود میں بٹھالیا اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیاحضور نے پانی منگایا اس پر پانی بہادیا خوب نہ دھویا ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ حضرت عکاشہ ابن محصن کی بہن ہیں،قبیلہ بنی اسد سے ہیں،مکہ معظمہ میں اسلام لائیں،پھر ہجرت کی۔
۲؎ اس حدیث کی بناءپربعض لوگوں نے کہا کہ شیرخوارلڑکے کا پیشاب پاک ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ ناپاک تو ہے لیکن صرف پانی کے چھینٹے سے پاک ہوجاتا ہے،دھونے کی ضرورت نہیں۔ہمارے امام صاحب کے نزدیک نجاست غلیظہ ہے،دھونا فرض۔یہاں نَضْحٌ کے معنی پانی بہاناہے نہ کہ چھینٹا دینا اور لَمْ یَغْسِلْ کے معنی ہیں بہت مبالغہ سے نہ دھویا کیونکہ ایسے لڑکے کا پیشاب پتلا اورکم بدبودار ہوتا ہے،ورنہ یہی نَضْحٌ حضرت اسماء کی حدیث میں حیض کے خون کے بارے میں آچکا ہے اگر یہاں اس لفظ سےشیرخوارلڑکے کا پیشاب پاک مانا جائے یا وہاں چھینٹا مانا جائے تو حیض کا خون بھی پاک ماننا پڑے گا اور وہاں چھینٹا کافی ماننا پڑے گا۔
|
498 -[9] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب کھال پکالی جائے تو پاک ہوجاتی ہے ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی مردارکی کھال دھوپ میں خشک کرلی جائے یانمک یا کیکر کی چھال چھڑک کر سکھالی جائے تو پاک ہوجائے گی۔انسان اورسور کے سوا تمام کھالوں کا حکم یہی ہےکھال کے دھونے کی ضرورت نہیں۔
|
499 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن ابْن عبَّاس قَالَ: تُصُدِّقَ عَلَى مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ» فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ: «إِنَّمَا حُرِّمَ أكلهَا» |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ حضرت میمونہ کی لونڈی کو بکری صدقہ دی گئی وہ مرگئی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر گزرے تو فرمایا کہ تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتارلی تم اسے پکالیتے اور نفع اٹھاتے لوگوں نے عرض کیا کہ وہ تو مردارہے فرمایا کہ اس کا کھانا صرف حرام ہے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع