30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
493 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصّديق أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إحدانا إِذا أصَاب ثوبها الدَّم من الْحَيْضَة كَيْفَ تَصَنُّعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذا أصَاب ثوب إحداكن الدَّم مِنَ الْحَيْضَةِ فَلْتَقْرُصْهُ ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِمَاءٍ ثُمَّ لتصلي فِيهِ» |
روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اﷲ! فرمایئے تو ہم میں سے جب کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے؟تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو اسے مل دے پھر پانی سے دھو دے پھر اس میں نماز پڑھ لے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ اس حدیث سے چندمسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حیض کا خون نجاست غلیظہ ہے اس لئے اس کے دھونے میں مبالغہ کرنا چاہیئے اسی لئے سرکار نے دھونے سے قبل ملنے کا حکم دیا۔دوسرے یہ کہ ناپاک کپڑا دھلتے ہی پاک ہوجاتا ہے اس لئے سوکھنا شرط نہیں۔تیسرے یہ کہ نضح کے معنی چھڑکنایاچھینٹا دینا نہیں بلکہ دھونا ہیں کیونکہ حیض کا خون پانی کے چھینٹے سے پاک نہیں ہوتا،خوب دھویا جاتا ہے،لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ شیر خوار لڑکے کا پیشاب چھینٹے سے پاک نہیں ہوتا اس کا دھونا ضروری ہے کیونکہ وہاں بھی لفظ نضح ہی آرہا ہے۔
|
494 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِي ثَوْبه بقع المَاء |
روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے منی کے بارے میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے فرمانے لگیں کہ میں اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھوتی تھی پس آپ نماز کو تشریف لے جاتے تھے حالانکہ دھونے کا اثر آپ کے کپڑے میں ہوتا۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ ام المؤمنین حضرت میمونہ کے آزاد کردہ غلام ہیں،فقیہ،تابعی ہیں،عطاء بن یسار کے بھائی ہیں،۷۳ سال کی عمر پائی ۱۰۷ھ میں وفات پائی۔
۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ منی نجس ہے،رینٹ یا تھوک کی طرح پاک نہیں،جیسا کہ شوافع کا خیال ہے ورنہ دھونے کی ضرورت نہ پڑتی۔دوسرے یہ کہ اپنی بیوی سے منی کا کپڑا دھلوانا جائز ہے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی خدمت ہے۔تیسرے یہ کہ نجس کپڑا دھونے کے بعد ہی پاک ہوجاتا ہے۔چوتھے یہ کہ گیلے کپڑے میں نماز جائز ہے۔
|
495 -[6] وَعَن الْأسود وَهَمَّام عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت اسود ۱؎ اورہمام سے۲؎ وہ حضرت عائشہ سے راوی فرماتی ہیں کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی مل دیتی تھی(مسلم) |
۱؎ آپ کا نام اسود ابن ہلال محاربی نخعی ہے،علقمہ ابن قیس کے بھتیجے ہیں،ابراہیم نخعی کے ماموں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا،دیدار نہ کرسکے،خلفائے راشدین کے ساتھیوں میں سے ہیں،۸۰ حج وعمرے کئے،تاوفات ہمیشہ روزہ دار رہے اور دو شب میں ایک ختم قرآن کرتے تھے، ۸۴ھ میں وصال ہوا۔(مرقاۃ و اشعہ)
۲؎ آپ نخی تابعی کوفی ہیں، ۶۵ھ میں وفات پائی،حضرت عائشہ صدیقہ و ابن مسعود وغیرہم صحابہ کی زیارت کی۔
|
496 -[7] وَبِرِوَايَةِ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ وَفِيهِ: ثمَّ يُصَلِّي فِيهِ |
اور علقمہ اسود کی ایک روایت میں حضرت عائشہ سے اسی طرح ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ اسی میں نماز پڑھ لیتے ۱؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع