30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نجاستوں کے پاک کرنے کاباب ۱؎
۱؎ یہاں نجاستوں سے حقیقی ناپاکیاں مراد ہیں نہ کہ حکمی کیونکہ انکا ذکر تو پہلے ہوچکا وضو اور غسل کی بحث میں۔چونکہ حقیقی نجاستیں بہت سی قسم کی ہیں۔خفیفہ،غلیظہ وغیرہ اس لئے نجاست جمع فرمایا گیا۔
|
490 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاء أحدكُم فليغسله سبع مَرَّات» وَفِى رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا پی جائے تو اسے سات بار دھوؤ (مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا تم میں سے کسی کے برتن کی پاکی جب اس میں کتا چاٹ جائے تو اسے ساتھ بار دھوئے پہلی بار مٹی سے ۱؎ |
۱؎ یہی مذہب ہےامام شافعی وغیرہ فقہاء و اکثر محدثین کا کہ کتے کے چاٹنے پر برتن کا سات بار دھونا اور مٹی سے مانجنا ان کے ہاں فرض ہے۔ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کا حکم بھی دوسری نجاستوں کی طرح ہے کہ اس کے دھونے میں نہ تعداد مقرر ہے نہ مٹی سے صاف کرنا لازم،بلکہ گندگی کا اثر دور کرنا ضروری ہے کہ مٹی وغیرہ کا برتن جس میں مسام ہوں تین بار دھویا جائے۔تانبہ،شیشہ وغیرہ جس میں مسام نہ ہوں اس کا ایک بار دھونا یا پونچھ دینا کافی ہے۔اس لئے کہ دار قطنی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کتاب برتن چاٹ جائے تو اسے تین بار،پانچ بار،یا سات بار دھوؤ۔نیز ابن عربی نے مرفوعًا روایت کی کہ جب کتا برتن چاٹ جائے تو پانی پھینک دو اور برتن تین بار دھو لو۔نیز دار قطنی نے بسند صحیح حضرت عطاء سے روایت کی کہ خود حضرت ابوہریرہ کا یہ عمل تھا جب ان کا برتن کتا چاٹ جا تا تو پانی گرادیتے اور برتن تین بار دھو ڈالتے،لہذا سات بار کی حدیث منسوخ ہے اور یہ احادیث مذکورہ ناسخ۔اولًا کتوں کا پالنا ممنوع اور ان کا قتل کرنا واجب تھا،اس ہی زمانہ میں یہ پابندیاں بھی تھیں۔جب ضرورۃً کتا پالنا جائز قرار دیا گیا اور اس کا قتل واجب نہ رہا تو سات بار کا حکم بھی منسوخ ہوگیا،نیز اگر کتا یا سور برتن میں پیشاب کردے تو تین بار دھونا کافی۔کتے کا لعاب تو پیشاب سے بدتر نہیں،لہذا اس میں بھی تین بار دھونا کافی ہونا چاہیئے۔یہ سات کا حکم ایسا ہی ہے جیسے شروع میں شراب کے برتنوں کا توڑ دینا فرض تھا،پھر وہ حکم نہ رہا۔
|
491 -[2] وَعَنْهُ قَالَ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ وَهَرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں کھڑے ہوکر پیشاب کردیااسے لوگوں نے پکڑلیا اوران سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۱؎ اور اس کے پیشاب پر پانی کا ڈول بہادو۲؎ کیونکہ تم آسانی کرنے والے بھیجے گئے مشکل میں ڈالنے والے نہیں بھیجے گئے۳؎ (بخاری ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع