30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
486 -[13] عَن يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بن الْخطاب خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّى وَرَدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا. رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت یحیی ابن عبدالرحمان سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اس قافلہ میں تشریف لے گئے جن میں حضرت عمرو ابن عاص تھے حتی کہ ایک حوض پر پہنچے تو عمرو نے کہا اے حوض والے کیا تیرے حوض پر درندے ہوتے ہیں؟۱؎ تو حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا اے حوض والے نہ بتانا کیونکہ ہم درندوں پر اور درندے ہم پر آتے ہیں۲؎ (مالک) |
۱؎ یعنی اگر درندے اس سے پانی پیتے ہوں تو ہم اس سے نہ وضو و غسل کریں اور نہ پیئیں۔انہیں آب قلیل و کثیر کا فرق معلوم نہ تھا ۔
۲؎ یعنی چونکہ یہ پانی کثیر ہے لہذا کسی جانور کے پی جانےسے نجس نہیں ہوتا اورکسی گندگی کے پڑ جانے سے گندا نہیں ہوتا،تاوقتیکہ پانی کی بو یا مزا اور رنگ گندگی کی وجہ سے نہ بدلے۔یہ حدیث گزشتہ حدیث جابر کی تفسیر ہے،اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کی قوی دلیل ہے۔
|
487 - [14] وَزَاد رزين قَالَ: زَاد بعض الروَاة فِي قَول عمر: وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَهَا مَا أَخَذَتْ فِي بُطُونِهَا وَمَا بَقِي فَهُوَ لنا طهُور وشراب» |
اور رزین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ کہا کہ بعض راویوں نے حضرت عمر کے فرمان میں یہ بڑھایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو درندے اپنے پیٹوں میں لے گئے وہ ان کا اور جو بچ رہا وہ ہماراپانی بھی ہے اورطہارت بھی ۱؎ |
۱؎ اس جملے میں بھی آب کثیر ہی مراد ہے۔لہذا یہ حدیث ہماری دلیل ہے نہ کہ شوافع کی۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مطلق پانی کے لئے ہے تھوڑا ہو یا بہت مگر یہ توجیہ اگلی آنے والی حدیث کے خلاف ہے۔ نیز فصل ثانی کے شروع میں گزر گیا کہ جب پانی دو قلے ہو تو درندوں کے پینے سے ناپاک نہ ہوگا اگر درندوں کا جھوٹاپاک ہے تو وہاں دوقلوں کی قیدکیوں ہے۔
|
488 -[15] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا السبَاع وَالْكلاب والحمر وَعَن الطُّهْرِ مِنْهَا فَقَالَ: " لَهَا مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان حوضوں کےمتعلق پوچھا گیاجو مکہ اورمدینہ کے درمیان ہیں جن پر درندے کتے اور گدھے سب آتے ہیں ان سے وضو کرنا کیسا فرمایا کہ وہ جو اپنے پیٹوں میں لے گئے وہ ان کا جو بچا وہ ہمارا وہ ہمارے لئے پاک کن ہے ۱؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ یہ حدیث گزشتہ کی تفسیر ہے،یعنی جب پانی زیادہ ہو تو درندوں کے پینے سے ناپاک نہ ہوگا۔خیال رہے کہ ان احادیث میں ان حوضوں کی مقدار کا ذکر نہیں۔ہمارے امام صاحب کے ہاں سو۱۰۰ہاتھ مربع پانی کثیر ہے،جس کی دلیل بیر"بالوعہ" کا مسئلہ ہے۔اور حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ ایک کنوئیں کا حریم دس۱۰ہاتھ ہے کہ اس حدیث میں دوسراکنواں نہ کھوداجائے۔
|
489 -[16] وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا تَغْتَسِلُوا بِالْمَاءِ الْمُشَمَّسِ فَإِنَّهُ يُورِثُ البرص. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ |
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے آپ نے فرمایا کہ دھوپ کے گرم شدہ پانی سے غسل نہ کرو اس لئے کہ وہ کوڑھ پیداکرتا ہے ۱؎ (دارقطنی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع