30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
483 -[10] وَعَن دَاوُد بن صَالح بن دِينَار التمار عَنْ أُمِّهِ أَنَّ مَوْلَاتَهَا أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ قَالَتْ: فَوَجَدْتُهَا تُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَيَّ أَنْ ضَعِيهَا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ مِنْ صَلَاتِهَا أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّهَا لَيست بِنَجس إِنَّمَا هِيَ من الطوافين عَلَيْكُم» . وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يتَوَضَّأ بفضلها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوداؤد ابن صالح ابن دینار سے وہ اپنی والدہ سے راوی کہ ان کی مالکہ نے انہیں ہریسہ دے کر حضرت عائشہ کے پاس بھیجا ۱؎ میں نے آپ کو نماز پڑھتے پایا مجھے اشارہ کیا کہ رکھ دو۲؎ ایک بلی آئی جو اس میں سے کھاگئی جب حضرت عائشہ نماز سے فارغ ہوئیں تو آپ نے وہاں سے ہی کھایا جہاں سے بلی نے کھایا تھا۔فرمانے لگیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی نجس نہیں وہ تو تم پر گھومنے والوں سے ہے۳؎ اور میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ بلی کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے تھے۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ داؤد ابن صالح مدنی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،ابو قتادہ انصاری کے آزادکردہ غلام ہیں،آپ کی والدہ بھی کسی کی آزاد کردہ لونڈی تھیں۔ہر یسہ ہرس سے بنا بمعنی سخت کوٹنا عرب کا مشہور حلوہ ہے۔
۲؎ انگلی سے اشارہ کیایا سر کی حرکت سے نماز میں بوقت ضرورت اتنا ہلکا سا اشارہ جائز ہے۔
۳؎ اس میں بھی حضرت عائشہ صدیقہ کا اجتہاد ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے جسم کو پاک فرمایا،لعاب یا جوٹھے کا ذکر نہیں کیا۔
۴؎ یہ جملہ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے خلاف نہیں کیونکہ اس سے وضو صرف مکروہ تنزیہی ہے۔حضور نے بیان جواز کے لیے کیا اورممکن ہے کہ دوسرا پانی نہ ہونے پر اس سے وضو کیا گیا ہو۔
|
484 -[11] وَعَن جَابر قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَتَوَضَّأُ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ كُلُّهَا» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا ہم گدھوں کے جوٹھے سے وضو کرلیں فرمایا ہاں اور اس سے بھی جنہیں تمامی درندوں نے بھی جوٹھا کیا ۱؎(شرح سنہ) |
۱؎ اس حدیث کی بناء پر امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام درندوں کا جوٹھا پاک ہے۔امام اعظم و امام احمد کے ہاں نجس۔امام اعظم کا قول قوی ہے،اور اس حدیث میں تالابوں کاپانی یابہتا ہوا پانی مرادہے جو نجاست پڑجانے سے ناپاک نہیں ہوتا۔جیسا کہ تیسری فصل میں آرہا ہے۔ورنہ یہ حدیث امام شافعی کے بھی خلاف ہوگی کیونکہ کتا و سور بھی درندے ہیں تو چاہیئے کہ ان کا جوٹھا بھی پاک ہو،جب درندوں کے گوشت نجس ہیں تو ان کا جوٹھا بھی نجس ہونا چاہیئے کیونکہ لعاب گوشت سے پیدا ہوتا ہے۔خیال رہے کہ گدھے کا جوٹھا پاک تو ہے مگر اس کی مطہریت میں شک ہے کیونکہ اس میں صحابہ کرام کا بہت اختلاف ہے۔بلا ضرورت اس سے وضو نہ کرے۔ اگر دوسراپانی نہ ملے تو وضو بھی کرے،اس کے ساتھ تیمم بھی۔
|
485 -[12] وَعَن أم هَانِئ قَالَتْ: اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَمَيْمُونَةُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِين.رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ام ہانی سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت میمونہ نے اس لگن سے وضو کیا جس میں گندھے آٹے کا اثر تھا۲؎(نسائی و ابن ماجہ) |
۱؎ آپ کا نام فاختہ یا عاتکہ ہے،علی مرتضی کی حقیقی بہن ہیں،آپ کے گھر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تھی،ہُبَیْرَہ ابن ابی وہب کی زوجیت میں تھیں،بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کا پیغام دیا مگر نکاح نہیں ہوسکا،فتح مکہ کے دن ایمان لائیں،امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ۵۰ھ کے بعدوفات پائی۔
۲؎ یعنی صرف اثر تھا۔پانی اس سے نہ سفید پڑا نہ گاڑھا،ایسے پانی سے بلاکراہت وضو جائز ہے۔
|
486 -[13] عَن يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بن الْخطاب خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّى وَرَدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا. رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت یحیی ابن عبدالرحمان سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اس قافلہ میں تشریف لے گئے جن میں حضرت عمرو ابن عاص تھے حتی کہ ایک حوض پر پہنچے تو عمرو نے کہا اے حوض والے کیا تیرے حوض پر درندے ہوتے ہیں؟۱؎ تو حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا اے حوض والے نہ بتانا کیونکہ ہم درندوں پر اور درندے ہم پر آتے ہیں۲؎ (مالک) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع