دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۲؎  یعنی یہ کنواں گویا مدفون کوڑی تھا کہ مدینہ کی گلیاں و کوچے صاف کرکے کوڑا کرکٹ وہاں ڈال دیا تھا جیسے ہمارے ہاں بھی ایسے گڑھے دیکھے گئے ہیں۔

۳؎   اَلْمَاءُ میں الف لام عہدی ہے یعنی یہ پانی پاک ہے ان گندگیوں سے ناپاک نہیں ہوتا۔امام شافعی کے نزدیک تو اس لئے کہ وہ پانی قلتین سے زیادہ تھا،امام اعظم کے نزدیک اس لیے کہ وہ پانی جاری تھایعنی مدفون نہر پر یہ کنواں واقع تھا جیسا کہ مکہ مکرمہ میں نہر زبیدہ پراور مدینہ طیبہ میں نہر زرقاءپرتمام کنوئیں ہیں جو بظاہر کنوئیں معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقت میں دبی ہوئی نہر،امام اعظم کا قول قوی ہے کیونکہ قلتین تو کیاسینکڑوں قلے پانی اتنی گندگی پڑنے سے بگڑ جائے گا ہمارے کنوئیں میں اگر ایک بلی پھول پھٹ جائے تو پانی سڑجاتا ہے،لہذا یہ حدیث امام شافعی کے خلاف ہوگی۔ہاں جاری پانی چونکہ سب کچھ بہا کر لے جائے گا،اس لئے کہ اس کے ناپاک ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اب بھی بیر بضاعہ وغیرہ میں جھانک کر دیکھو تو پانی بہتا ہوانظر آتا ہے۔

479 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أفنتوضأ من مَاء الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» . رَوَاهُ مَالك وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ  علیہ  وسلم سے سوال کیاعرض کیا یارسول اﷲ ہم سمندر میں سوار ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کیا کریں ۱؎  حضور صلی اللہ  علیہ  وسلم نے فرمایا سمندرکاپانی پاک ہے۲؎ اور اس کا مردارحلال۳؎(مالک،ترمذی،ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ،دارمی)

۱؎  سائل کو شبہ یہ تھا کہ سمندرکاپانی سخت کڑوا ہے پینے کے قابل نہیں لہذا اس آیت کے تحت نہیں آتا:"وَ اَنۡزَلْنَامِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوۡرًا"کیونکہ بارش کا پانی میٹھا اورمطہرہے اورسمندر کا پانی میٹھانہیں تو چاہیئے کہ مطہربھی نہ ہو۔

۲؎  یعنی سمندر کے پانی کا یہ مزہ اصلی ہےیا زیادہ ٹھہرنے کی وجہ سے کسی نجاست نے اس کا مزہ نہیں بدلالہذا پاک بھی ہے،مطہر بھی۔ خیال رہے کہ اگر کنوئیں کا پانی بہت ٹھہرارہنے کی وجہ سے بدمزہ یابدبودارہوجائے تو پاک رہے گا۔

۳؎  احناف کے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں کہ مچھلی کو ذبح کرنا ضروری نہیں۔اگر ہمارے پاس آکر مرجائے یا سمندر کی موج اسے کنارے پر پھینک جائے جس سے وہ مرجائے تو حلال۔لیکن اگر اپنی بیماری سے مرکر پانی پر تیر جائے تو حرام کیونکہ اب وہ سمندر کا مردار نہیں،بلکہ بیماری کا مردار ہے،بعض آئمہ نے اس کے معنی یہ سمجھے کہ پانی کا ہر جانور حلال حتی کہ مینڈک کچھو ا وغیرہ بھی مگر یہ معنی درست نہیں کیونکہ دریائی انسان اور دریائی سورکو وہ بھی حرام جانتے ہیں۔تو انہیں بھی حدیث میں قید لگانی پڑے گی۔

480 -[7]

وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ: «مَا فِي إِدَاوَتِكَ» قَالَ: قلت: نَبِيذ. فَقَالَ: «تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ: فَتَوَضَّأَ مِنْهُ

وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: أَبُو زيد مَجْهُول وَصَحَّ

روایت ہے ابو زیدسے وہ عبداﷲ ابن مسعود سے راوی کہ نبی صلی اللہ  علیہ  وسلم نے جنات کی رات ۱؎  ان سے فرمایا کہ تمہارے برتن میں کیا ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا نبیذ ہے۲؎  فرمایا کھجور پاک ہے اور پانی پاک کرنے والا۳؎  ابوداؤد،احمد، ترمذی نے زیادہ کیا کہ پھر اس سے وضو فرمایا۔ترمذی کہتے ہیں کہ ابو زید مجہول ہے۴؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن