30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ چونکہ پانی بہت سی قسم کے ہیں:بارش کا پانی،چشمے،کنوئیں،تالاب وغیرہ کا پانی،جاری اور غیر جاری،مستعمل اور غیر مستعمل،حیوانات کا جھوٹااور دھوپ وغیرہ سے گرم شدہ پانی اور ان پانیوں کے احکام جداگانہ ہیں اس لئے مِیَاہ بھی جمع لائے اور احکام بھی۔
|
474 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يجْرِي ثمَّ يغْتَسل فِيهِ»وَفِى رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «لَا يَغْتَسِلُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ» . قَالُوا: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے پانی میں جو بہتا نہ ہو ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس میں غسل کرے گا ۱؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا تم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں ٹھہرے پانی میں غسل نہ کرے لوگوں نے کہا کہ اے ابوہریرہ پھر کیا کرے فرمایا اس میں سے لے لے۲؎ |
۱؎ یعنی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا ہر گز جائز نہیں کیونکہ اس سے پانی نجس ہو کر غسل و وضو وغیرہ کے قابل نہ رہے گا جس سے اسے بھی تکلیف ہوگی اور دوسروں کو بھی۔اور بہت سے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا مناسب نہیں کہ اگرچہ وہ ناپاک تو نہ ہوگا لیکن اس کے پینے یا وضو کرنے سے دل کراہت کرے گا۔پہلی صورت میں ممانعت تحریمی ہے اور دوسری صورت میں تنزیہی۔یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے کہ دو ۲قلے پانی نجاست پڑنے سے ناپاک ہوجاتا ہے۔اگر ناپاک نہ ہوتا تو یہ ممانعت اس تاکید سے نہ فرمائی جاتی۔اس کی تحقیق ان شاءاﷲ تعالٰی آگے آئے گی۔
۲؎ یعنی چھوٹے حوض یا گڑھے میں جو پانی بھرا ہو جنبی اس میں گھس کر نہ نہائے بلکہ چلوؤں،لپّوں،یا برتن سے لے کر الگ نہائے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ تھوڑا پانی جنبی کے گھس جانے سے ماء مستعمل بن جاتا ہے لہذا جنبی یا بے وضو اگر کنوئیں میں گھسا تو پانی مستعمل ہوگیا۔دوسرے یہ کہ ناپاک آدمی بوقت ضرورت ناند یا چھوٹے حوض میں سے چلو یا لپ بھر سکتا ہے اس سے پانی مستعمل نہ ہوگا۔
|
475 -[2] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الراكد. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں منع فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ٹھہرے پانی میں پیشاب کیا جائے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ ٹھہرا پانی خواہ دوقلے ہوں یا اس سے کم و بیش اس میں پیشاب پاخانہ ممنوع ہے بلکہ اس میں تھوک و رینٹ ڈالنا بھی برا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ رات کو ٹھہرے پانی میں پیشاب ہرگز نہ کرے کہ اس وقت وہاں جنات رہتے ہیں تکلیف پہنچائیں گے،ہاں تالاب وغیرہ کا یہ حکم نہیں۔تالاب وہ ہے کہ اگر اس کے ایک کنارے سے پانی ہلایا جائے تو دوسرے کنارے کا پانی نہ ہلے یعنی سو ہاتھ کی سطح والا پانی اسی کو آب کثیر بھی کہتے ہیں اس سے کم پانی قلیل کہلاتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع