دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۵؎  جب اس شخص نے سلام کیا توکوئی لائق تیمم دیوار سامنے موجود نہ تھی۔اس لئے حضور صلی اللہ  علیہ  وسلم اس دیوار تک پہنچے اتنے میں وہ شخص گلی کے کنارے پرپہنچ گیا،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ فورًا ہی تیمم کیوں نہ کرلیا۔اس سے معلوم ہوا کہ کچی دیوار پرتیمم جائز ہے،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔تیمم کے لئے صرف ریت یا خشک مٹی ضروری نہیں۔

۶؎ یعنی میں اس وقت بے وضو تھا اور جواب میں کہنا ہوتا ہے "وعلیکم السلام"سلام اﷲ تعالٰی کا نام بھی ہے اگرچہ یہاں وہ معنی مراد نہیں پھر بھی اس لفظ کا احترام کرتے ہوئے میں نے بغیر وضو یہ لفظ بولنا مناسب نہ سمجھا۔حضرت شیخ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ اس وقت حضورصلی اللہ  علیہ  وسلم پر خاص انوار الہیہ کی تجلی ہورہی تھی جس کا اثر یہ تھا کہ آپ نے بغیر طہارت سلام کا لفظ بھی منہ نہ سے نکالا،یہ خصوصی حکم ہے،لہذا اس حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حضور صلی اللہ  علیہ  وسلم پاخانے سے آکر قرآن پڑھاتے تھے،دعائیں پڑھتے تھے،وضو سے پہلے بسم اﷲ پڑھتے تھے اوریہاں بغیر وضو سلام کا لفظ بھی نہیں بولتے،کہ وہ عام حکم شرعی تھا اور یہ حکم خصوصی۔شریعت وطریقت،فتویٰ وتقویٰ میں فرق ہے۔نہ یہ اعتراض ہے کہ پانی کے ہوتے ہوئے تیمم درست نہیں ہوتا،پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تیمم کیوں کیا؟اس تیمم سے نماز وغیرہ نہ پڑھی صرف جواب سلام دیا،نماز جنازہ جارہی ہو تو پانی کے ہوتے تیمم جائز ہے مگر اس سے دوسری نماز نہیں پڑھ سکتے۔یہاں بھی جواب کا وقت جارہا تھا،آدمی چھپا جارہا تھا اس لیے یہ عمل فرمایا۔غرض کہ یہ حدیث بےغبار ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جواب سلام میں دیر لگاناضرورۃً جائز ہے اور اس دیر لگ جانے پر معذرت کردینا سنت ہے تاکہ اس کو رنج نہ ہو۔

467 -[17]

وَعَن المُهَاجر بن قنفذ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى تَوَضَّأ ثمَّ اعتذر إِلَيْهِ فَقَالَ: «إِنِّي كرهت أَن أذكر الله عز وَجل إِلَّا على طهر أَو قَالَ على طَهَارَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى النَّسَائِيُّ إِلَى قَوْلِهِ: حَتَّى تَوَضَّأَ وَقَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت مہاجرابن قنفذ سے ۱؎ کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ پیشاب کر رہے تھے ۲؎ انہوں نے سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ وضو کرلیا۔پھر ان سے معذرت کی اور فرمایا کہ میں نے یہ پسند نہ کیا کہ بغیر پاکی کے اﷲ کا ذکرکروں ۳؎(ابوداؤد)اور نسائی نے"حَتّٰی تَوَضَّا"تک روایت کی اور فرمایا کہ جب وضو کرلیا تو اس کا جواب دیا۔

۱؎  آپ کا نام خلف ابن عمیر ہے،لقب مہاجر کیونکہ حضور صلی اللہ  علیہ  وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم سچے مہاجر ہو آپ قریشی ہیں،تیمی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،بصرہ میں قیام رہا،وہاں ہی وفات ہوئی۔

۲؎   پیشاب یاپاخانہ کرنے والے پرسلام کرنا منع ہے اور اس کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں،لیکن قضائے حاجت کے بعد جواب دے دیا جائے تو جائز ہے اس حدیث میں اسی کا ذکر ہے۔چونکہ ان صحابی کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا اسی لئے انہوں نے اس حالت میں سلام کیا۔

۳؎   اس کی پوری بحث اوپر گزر چکی۔یہاں ہے کہ حضورصلی اللہ  علیہ  وسلم نے وضو کرکے جواب دیا کیونکہ یہاں سلام کرنے والے کہیں جا نہ رہے تھے،بلکہ حضور کے پاس ہی تھے۔اس لئے جواب کی جلدی نہ تھی،وضو کیا،پھر جواب دیا وہاں سلام والاجارہا تھا،لہذا فرق ہوگیا۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن