30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بغیرغسل نماز کے قریب نہ جاؤ ہاں اگرمسافرہو اورپانی نہ پاؤ تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو وہاں مسجد سے گزرنا مراد نہیں،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ اﷲ تعالٰی نے حضورکو مالک احکام بنایا ہے فرماتے ہیں میں حلال نہیں کرتا۔معلوم ہوا کہ حلال وحرام حضورکرتے ہیں(صلی اللہ علیہ وسلم)۔
|
463 -[13] وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تدخل الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جنب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں تصویرہو اور نہ اس میں جس میں کتا اورجنبی ہو ۱؎(ابو داؤد،نسائی) |
۱؎ یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے جو بلا ضرورت حرمت و عزت سے رکھی جائے۔اورکتے سے مرادبلا ضرورت محض شوقیہ طور پر پالا ہوا کتاہے۔جنبی سے مراد وہ شخص ہے جوبلاضرورت شرعیہ بےغسل رہا کرے۔لہذا حدیث پر نہ تویہ اعتراض ہے کہ کبھی روپیہ پیسہ میں فوٹو ہوتے ہیں جو ہرگھر میں رہتے ہیں،نہ یہ کہ کھیتی یا گھر بار کی حفاظت یا شکار کے لیے کتا پالنا جائز ہے،نہ یہ کہ رات کو جنبی وضو کرکے رات گزار سکتا ہے،نہ یہ کہ اگر ان گھروں میں فرشتے نہیں آتے تو ان لوگوں کی حفاظت یانامۂ اعمال کی تحریر کون کرتا ہے یا ان کی جان کون نکالے گا۔
|
464 -[14] وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ لَا تَقْرَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ جِيفَةُ الْكَافِرِ وَ الْمُتَضَمِّخُ بِالْخَلُوقِ وَالْجُنُبُ إِلَّا أَن يتَوَضَّأ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کے قریب بھی فرشتے نہیں آتے کافر مردار خلوق سے لتھڑاہوا اورجنبی مگر یہ کہ وضو کرے ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ یہاں بھی فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔کافر مردار سے کافر کا جسم مرادہے زندہ ہو یا مردہ،یعنی کفار کے پاس رحمت کے فرشتے نہیں آتے اسی لئے کفار کے مجمع میں نماز نہ پڑھے،کفارکو نماز استسقاء کے لیے ساتھ نہ لے جائے۔خلوق اس خوشبو کا نام ہے جس میں زعفران وغیرہ ہوتے ہیں اس کا رنگ ظاہر ہوتا ہے۔مردوں کو صرف ایسی خوشبو لگانی چاہیئے جو خوشبو دے رنگ نہ دے یہاں مردوں کے لئے ممانعت مقصود ہے،عورتیں اس حکم سے علیحدہ ہیں۔(مرقاۃ وغیرہ)یونہی جنبی سے مراد وہ جنبی ہے جو ناپاک رہنے کا عادی ہو،نماز کے اوقات میں گندا رہے۔لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔دوسری احادیث سے متعارض نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ رات میں جنبی ہونے والا اگر یوں ہی بغیر وضو کئے سوجائے تو رحمت کے فرشتے نہ آئیں گے،وضو کرکے سونا چاہیئے۔
|
465 -[15] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لعَمْرو بن حزم: «أَن لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالدَّارَقُطْنِيُّ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی بکر ابن محمدابن عمرو ابن حزم سے ۱؎ کہ وہ خط جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن حزم کو لکھا۲؎ اس میں یہ تھا کہ قرآن کو صرف پاک آدمی ہی چھوئے۳؎(مالک دار قطنی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع