30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
456 -[6] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ سَنَذْكُرُهُ فِي كِتَابِ الْأَطْعِمَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ذکر الٰہی کرتے تھے ۱؎(مسلم)ہم ابن عباس کی حدیث ان شاءاﷲ کھانوں کے باب میں بیان کریں گے۲؎ |
۱؎ یعنی جنابت وطہارت ہر حال میں زبان شریف سے کلمۂ طیبہ اورتمام وظائف وغیرہ پڑھا کرتے تھے کیونکہ جنابت میں صرف تلاوت قرآن حرام ہے۔
لطیفہ: مجھ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ جنابت میں درود شریف سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کی بے ادبی ہوگی،میں نے جواب دیا کہ اگر سمندر میں گندہ آدمی نہالے تو گندہ پاک ہوجاتا ہے سمندر ناپاک نہیں ہوتا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک سمندر ہے ہم گندے ہیں،نیز جو عورتیں حیض و نفاس کی حالت میں مرتی ہیں انہیں مرتے وقت کلمہ اور درود کی بلاشبہ اجازت ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام ذکر زبانی جہری کرتے تھے جبھی تو آپ سنتی تھیں۔خیال رہے کہ حضرات قادریہ و چشتیہ وغیرہم کے ہاں ذکر بالجہر افضل ہے ان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہوسکتی ہے۔
۲؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث اسی مقام پرتھی مگرصاحب مشکوٰۃ نے اسے مناسبت کی وجہ سے وہاں ذکر کیا جس میں فرمایا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیروضو کئے کھانا تناول فرمالیا۔
|
457 -[7] عَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ فَأَرَادَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِن يَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ «إِنَّ الْمَاءَ لَا يُجْنِبُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. وَرَوَى الدَّارمِيّ نَحوه |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے لگن میں غسل کیا ۱؎ حضور نے ا س سے وضو کرنا چاہا انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ میں ناپاک تھی۔فرمایا پانی تو ۱؎ ناپاک نہیں ہوتا ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)دارمی نے اس کی مثل۔ |
۱؎ وہ بیوی حضرت میمونہ تھیں۔اور لگن میں غسل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس سے پانی لے کر غسل کیا نہ کہ اس میں بیٹھ کر یعنی بقیہ پانی حضرت میمونہ کا فضالہ تھا غسالہ نہ تھا۔
۲؎یعنی عورت کے فضالے سے مرد وضو وغسل کرسکتا ہے۔خیال رہے کہ تیسری فصل میں اس سے ممانعت بھی آرہی ہے مگر وہ ممانعت بیان کراہت کے لئے ہے اور یہ حدیث بیان جوا زکے لیے یعنی عورت کے فضالے سے مرد کا وضو یا غسل کرنا بہتر نہیں لیکن اگر کرے تو جائز ہے۔
|
458 -[8] وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْهُ عَنْ مَيْمُونَةَ بِلَفْظِ المصابيح |
اور شرح سنہ میں انہیں سے وہ حضرت میمونہ سے راوی مصابیح کے الفاظ سے۔ |
|
459 -[9] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِي قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وروى التِّرْمِذِيّ نَحوه |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنابت سے غسل فرماتے پھر میرے غسل سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے ۱؎ اسے ابن ماجہ نے روایت کیااورترمذی نے اس کی مثل روایت کی اورشرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع