30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں ۱؎
۱؎ جنبی جنابت سے بنا جس کے لغوی معنی ہیں دوری و علیحدگی۔شریعت میں حدث اکبر جس سے غسل واجب ہو جنابت کہلاتاہے کیونکہ اس کی وجہ سے انسان مسجدونمازوغیرہ سے علیحدہ رہتا ہے۔مذکر،مونث ایک اور چند سب کو جنب کہا جاسکتا ہے۔اختلاط سے مراد اس کے ساتھ کھانا،پینا،اٹھنا،بیٹھنا،مصافحہ،معانقہ ہے۔
|
451 -[1] عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَخَذَ بِيَدِي فمشيت مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَة» فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجَسُ» . هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ مَعْنَاهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ. وَكَذَا البُخَارِيّ فِي رِوَايَة أُخْرَى |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ملے ۱؎ حالانکہ میں ناپاک تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑلیا ۲؎ میں آپ کے ساتھ چلاحتی کہ آپ بیٹھ گئے میں چپکے سے نکل گیامنزل میں آیاغسل کیا پھر حاضر ہوا حالانکہ آپ تشریف فرما تھے۳؎ فرمایا اے ابوہریرہ کہاں تھے؟ میں نے واقعہ عرض کیا فرمایا سبحان اﷲ!مؤمن گندہ نہیں ہوتا۴؎ یہ بخاری کے لفظ ہیں مسلم کی روایت میں اس کے معنی ہیں اور قُلْتُ کے بعد یہ بھی ہے کہ آپ مجھے ملے حالانکہ میں جنبی تھا میں نے غسل کے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا ناپسند کیا۵؎ بخاری کی دوسری روایت میں ایسے ہی ہے۔ |
۱؎ یہ نہ فرمایا کہ میں حضور سے ملا کیونکہ آپ کا ارادہ ملنے کا نہ تھا اتفاقًا ملاقات ہوگئی،آپ تو غسل کرنے جارہے تھے۔
۲؎ محبت اورشفقت کی بنا پر نہ کہ چلنے میں امداد لینے کے لیے جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا۔
۳؎ یہ ہے صحابہ کا انتہائی ادب،اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ ناپاکی کی حالت میں مصافحہ وغیرہ سب ممنوع ہے مگر حیاء اور ادب کی وجہ سے اس وقت عرض نہ کرسکے،خیال تھا کہ بعد میں مسئلہ پوچھ لوں گا چونکہ اس کے ناجائز ہونے کا یقین نہ تھا،اس لئے خاموشی اختیار کی۔
۴؎ یعنی جنابت نجاست حقیقیہ نہیں تاکہ جنبی سے مصافحہ وغیرہ منع ہو۔خیال رہے کہ کافر بھی نجس نہیں قرآن کریم میں جو مشرکوں کو نجس فرمایا گیا اس سے گندگی اعتقاد مراد ہے۔اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جنبی کا پسینہ یا جھوٹا نجس نہیں۔دوسرے یہ کہ غسل جنابت میں دیر لگانا جائز ہے۔تیسرے یہ کہ جنابت کی حالت میں ضروری کام کاج کرنا جائز ہے۔چھوتھے یہ کہ جنبی سے مصافحہ،معانقہ بلکہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز۔
۵؎ احتیاطًا یہ سمجھے ہوئے کہ شاید جنبی پر نجس حقیقی کے احکام جاری ہوں۔
|
452-[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنه قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نم» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمرابن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ انہیں رات میں جنابت پہنچتی ہے ۱؎ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کرو عضو خاص دھولو پھرسوجاؤ۲؎ (بخاری ومسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع