30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۹؎ یعنی دنیا میں ایسا انقلاب آوے گا کہ ذلیل لوگ عزت والے بن جائیں گے اور عزیر لوگ ذلیل ہوجائیں گےجیسا آج دیکھا جارہا ہے۔سکندر ذوالقرنین نے حکم دیا تھا کہ کوئی پیشہ ور اپنا موروثی پیشہ نہیں چھوڑسکتا تاکہ عالم کا نظام نہ بگڑ جائے۔(اشعۃ اللمعات)معلوم ہوا کہ کمینوں کا اپنا پیشہ چھوڑکر اونچا بن جاناعلامت قیامت ہے۔اور اس سے نظام عالم کی تباہی ہے۔
۲۰؎ یہ صحابہ کا ادب ہے کہ علم اللہ اور رسول کے سپردکرتے ہیں۔اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور کا ذکراﷲ کےساتھ ملاکرکرناشرک نہیں بلکہ سنتِ صحابہ ہے،یہ کہہ سکتے ہیں کہ اﷲاوررسول جانیں،اﷲ اور رسول فضل کریں،اﷲ اور رسول رحم فرما دیں،اﷲ اور رسول بھلاکرے۔دوسرے یہ کہ حضورکو خبرتھی کہ یہ سائل جبریل تھے ورنہ آپ فرمادیتے کہ مجھےبھی خبر نہیں یہ کون تھے۔
۲۱؎ یعنی اس لیے آئے تھے کہ تمہارے سامنے مجھ سے سوالات کریں تم جوابات سن کر دین سیکھ لو۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان پر حضور کی اطاعت واجب ہے نہ کہ جبریل کی کہ یہاں جبریل نے حاضرین سے خود نہ کہہ دیا کہ لوگو! میں جبریل ہوں مجھ سے فلاں فلاں بات سیکھ لو بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا تاکہ لوگوں کےلیےقابل قبول ہو۔جبریل کے معنی ہیں " عبداﷲ" جبربمعنی عبد،ایل اﷲ بزبان عبرانی۔
|
3 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَرَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَة مَعَ اخْتِلَافٍ وَفِيهِ: " وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكْمَ مُلُوكَ الْأَرْضِ فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ. ثُمَّ قَرَأَ: (إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ) الْآيَة. |
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تھوڑے اختلاف سے روایت کی ان کی روایت میں ہے کہ جب تم ننگے پاؤں،ننگے بدن والے،بہروں، گونگوں کو زمین کا بادشاہ دیکھو قیامت ان پانچ میں سے ہے جنہیں خدا کے سواکوئی نہیں جانتاپھریہ آیت تلاوت کی کہ قیامت کا علم اﷲ ہی کو ہے وہ ہی مینہ برساتا ہے ۱؎ (مسلم و بخاری) |
۱؎ یعنی پانچ چیزیں رب تعالٰی کے سوا کوئی نہیں جانتاقیامت کب ہوگی،بارش کب آویگی،ماں کے پیٹ میں کیا ہے،اور میں کل کیاکروں گا،اور میں کہاں مروں گا۔اس میں سورۂ لقمان کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے۔اس آیت وحدیث کا مطلب یہ نہیں کہ اﷲ نےکسی کو یہ علم دیئے بھی نہیں،کاتب تقدیر فرشتہ اور ملک الموت کو یہ علوم بخشے گئے،ہمارے حضورنے بدرکی جنگ سے پہلے زمین پر خطوط کھینچ کر بتایاکہ کل یہاں فلاں فلاں کافر ماراجاوے گا،بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ علوم خمسہ قیاس تخمینہ حساب سے معلوم نہیں ہوسکتے صرف وحی الٰہی سے ان کا پتہ لگ سکتا ہے۔
|
-[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ " |
روایت ہے حضرت ابن عمرسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام پانچ چیزوں پرقائم کیا گیا۲؎ اس کی گواہی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کےبندےاور رسول ہیں۳؎ اورنمازقائم کرنا۴؎ زکوۃ دینا اور حج کرنا۵؎ اور رمضان کے روزے۔(بخاری و مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع