30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
449 -[20] وَعَن عَليّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصليت الْفجْر ثمَّ أَصبَحت فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میں نے جنابت سے غسل کیا اور فجر پڑھ لی۔پھر دیکھا کہ ناخن برابر جگہ کو پانی نہ پہنچا فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تم اس جگہ ہاتھ پھیر لیتے تو کافی ہوتا ۱؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی اگرغسل کے وقت وہاں ہاتھ پھیرلیتے تو پانی بہہ جاتایاغسل کے بعدوضو وغیرہ کے وقت ہاتھ پھیر کر پانی بہا لیتے تو بھی کافی ہوتا،اب وہ جگہ دھوؤ اورنمازدوبارہ پڑھو۔حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس جگہ پر صرف مسح کافی تھا،پانی بہانے کی حاجت نہیں، کیونکہ غسل میں سارے جسم پر پانی بہانا فرض ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرغسل کا کوئی عضو سوکھا رہ گیا اوربہت دیر کے بعدپتا لگے تووہ دوبارہ غسل کرنا ضروری نہیں بلکہ صرف وہ جگہ دھودینا کافی ہے۔
|
450 -[21] وَعَن عبد الله بن عمر قَالَ كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سبع مرار وَغسل الْبَوْل من الثَّوْب سبع مرار فَلَمْ يَزَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ حَتَّى جعلت الصَّلَاة خمْسا وَالْغسْل من الْجَنَابَة مرّة وَغسل الْبَوْل من الثَّوْب مرّة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نمازیں پچاس تھیں اور جنابت کا غسل سات بار اور کپڑے سے پیشاب دھونا سات بار ۱؎ پس حضور انور عرض کرتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ رہیں اورجنابت کا غسل ایک بار اور کپڑا پیشاب سے دھونا ایک بار۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی معراج میں اولًایہ احکام دیئے گئے،پھر وہاں ہی منسوخ ہوگئے،جیسا کہ آگے آرہا ہے ان احکام پر عمل کسی نے نہیں کیا کیونکہ عمل سے پہلے نسخ جائز ہے۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ تینوں نسخ معراج کی رات ہی میں ہوگئے۔بعض نے فرمایا کہ شروع اسلام میں غسل اور کپڑا دھونا سات سات بار رہا جس پر کچھ روزعمل ہوا۔خیال رہے کہ امام شافعی کے نزدیک نجس کپڑا ایک بار دھونا ہی فرض ہے،جیسے وضو اور غسل میں ایک بار اعضاء دھونا فرض اور ہمارے امام صاحب کے یہاں جب کپڑے پر نجاست نظر نہ آتی ہو تو اتنا دھونا فرض ہے کہ اس کی پاکی کا گمان غالب ہوجائے اس طرح کہ تین بار دھوئے اور ہر دفعہ نچوڑے۔مگرصاحبین کے نزدیک بھی جوکپڑے نچوڑنے کے قابل نہ ہوں جیسے بہت موٹی دریاں یا نہایت کمزور نازک ریشمی کپڑے ان میں بھی اس قدر پانی بہنا کافی ہوتاہے،لہذا یہ حدیث امام صاحب کے خلاف نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع