30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی غسل سے پہلے خطمی سے سر دھوتے،پھر تمام بدن کے ساتھ سر نہ دھوتے تاکہ خطمی کا کچھ اثر باقی رہے اور پہلا پانی کا بہالینا غسل کے لیے کافی مانا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر غسل کے اعضاء آگے پیچھے دھلیں تو غسل درست ہے۔
۲؎ یعنی غسل کے ساتھ خالص پانی سر پر نہ ڈالتے وہ ہی خطمی والا پانی کافی تصور فرماتے۔
|
447 -[18] وَعَن يعلى: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ الله وَأثْنى عَلَيْهِ وَقَالَ: «إِن الله عز وَجل حييّ حييّ ستير يحب الْحيَاء والستر فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ سِتِّيرٌ فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ» |
روایت ہے حضرت یعلٰی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو میدان میں نہاتے دیکھا۲؎ تو آپ منبر پر چڑھے،پھر اﷲ کی حمد و ثناءکی پھرفرمایا کہ اﷲ تعالٰی حیا دار ہے،پردہ پوش ہے،حیا اورپردےکو پسند کرتا ہے۳؎ تو جب تم میں سے کوئی نہائے تو پردہ کرلیاکرے۴؎(ابوداؤد نسائی)اور نسائی کی روایت میں ہے کہ اﷲ پردہ پوش ہے جب تم میں سے کوئی نہاناچاہے تو کسی چیز سے آڑ کرلیا کرے۵؎ |
۱؎ یعلی دو ہیں ایک یعلی ابن امیہ،دوسرے یعلی ابن مرہ دونوں صحابی ہیں،پتہ نہیں کہ یہاں کون یعلٰی مراد ہیں۔
۲؎ یہ صاف میدان میں تنہا تھے۔اسی لئے ننگے نہارہے تھے کہ وہاں اس وقت کوئی دیکھ نہ رہا تھا،نیز عرب میں اسلام سے پہلے کوئی شرم وحیاءنہ تھا،حیاء و شرم تو اسلام نے سکھائی۔
۳؎ اگرچہ اکیلا ہو مرد تو تہبند باندھ کرمیدان میں نہا سکتا ہے کہ اس کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہے لیکن عورت غسل خانے یا آڑ ہی میں نہائے،کیونکہ اس کا ستر سر سے پاؤں تک ہے۔
۴؎ فقہاءفرماتے ہیں کہ تنہائی میں بلاوجہ ننگا ہونامنع ہے۔اﷲ سے حیاچاہیئے۔
۵؎ تنہائی میں آڑ کرنا مستحب ہے،اور سب کے سامنے واجب یہ امردونوں کو شامل ہے۔
|
448 -[19] عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ ثمَّ نهي عَنْهَا |
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ پانی سےپانی ہے اول اسلام میں اجازت تھی پھر اس سے منع کردیا گیا ۱؎۔(ترمذی ابوداؤد،د دارمی) |
۱؎ یعنی شروع اسلام میں بغیر انزال صحبت کرنے سے غسل واجب نہ ہوتا تھا،اب حشفہ غائب ہونے سے غسل واجب ہوگا نزال ہو یا نہ ہو۔ مرقات نے فرمایا کہ اسلام میں اول صرف عقیدۂ توحید فرض ہوا،پھر سورۂ مزمل والی نماز یعنی رات کی،پھر پنج گانہ نماز کی فرضیت سے نماز شب کی فرضیت منسوخ ہوگئی،پھربعد ہجرت روزے اور زکوۃ وغیرہ فرض ہوئے۔
|
449 -[20] وَعَن عَليّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصليت الْفجْر ثمَّ أَصبَحت فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میں نے جنابت سے غسل کیا اور فجر پڑھ لی۔پھر دیکھا کہ ناخن برابر جگہ کو پانی نہ پہنچا فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تم اس جگہ ہاتھ پھیر لیتے تو کافی ہوتا ۱؎ (ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع