30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس حدیث سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ غسل میں جسم کے سارے بال بھگونا فرض ہیں اگر ایک بال بھی خشک رہ گیا تو غسل نہ ہوگا۔دوسرے یہ کہ اگر بدن پر خشک مٹی،گندھا ہوا آٹایاموم لگا رہ گیا جس کے نیچے پانی نہ پہنچا،تب بھی غسل نہ ہوگا لہذا اگر ناخنوں پر نیلی پالش لگی ہوئی ہے تو غسل درست نہیں،کیونکہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے گا۔خیال رہے کہ گھنی داڑھی وضو میں مانع نہیں،کیونکہ اس میں بڑی مشقت ہے،وضو روزانہ کئی بار ہوتا ہے،غسل میں اس کے نیچے پانی پہنچاناچاہیئے۔(مرقاۃ)
۲؎ یعنی وجہ بڑھاپے کے انکا حافظہ کمزور ہوگیا تھا،اس لئے انکی روایت چنداں قوی نہیں۔لفظ شیخ عدالت کی تعریف اورحافظہ کی جرح کے لیے آتاہے یہاں جرح کے لئے ہے جیساکہ اگلی عبارت سے ظاہر۔
|
444 -[15] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يَغْسِلْهَا فعل بهَا كَذَا وَكَذَا من النَّار» . قَالَ عَليّ فَمن ثمَّ عاديت رَأْسِي ثَلَاثًا فَمن ثمَّ عاديت رَأْسِي ثَلَاثًا فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي ثَلَاثًا. (رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ إِلَّا أَنَّهُمَا لَمْ يُكَرِّرَا: فَمن ثمَّ عاديت رَأْسِي) |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جنابت میں ایک بال کی جگہ چھوڑ دے جسے نہ دھوئے تو اسے آگ میں ایسا ایسا عذاب کیا جائے گا ۱؎ حضرت علی فرماتے ہیں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں تین بار۲؎ اسے ابوداؤد،دارمی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے مکرر نہ کیا اسی لیئے دشمن ہوگیا میں اپنے سر کا۔ |
۱؎ یعنی عذاب پر عذاب ہوگا ایک تو ناپاک رہنے کا دوسرے تمام نمازیں برباد کرنے کا لہذا غسل میں بڑی احتیاط چاہیئے۔ناف،بغل،کان کی لو،ان میں بہت خیال سے پانی پہنچائے کہ یہاں اکثر بغیر توجہ پانی نہیں پہنچتا۔
۲؎ یعنی زلفیں یاپٹے نہیں رکھواتا،ہمیشہ بال کٹواتا،منڈاتا رہتا ہوں۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورتمام صحابہ رضی اللہ عنھم نے سواء حج کے اور کبھی سر نہ منڈوایا،اس حدیث سے علی مرتضی کا ہمیشہ سر منڈانا ثابت نہیں ہوسکتا کہ آپ بال کٹواتے ہوں،اگر منڈواتے بھی ہوں تو منڈوانے کا جواز ثابت ہوگا،نہ کہ اس کی سنّیت،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سرمنڈوانا وہابیوں نجدیوں کی علامت قرار دیا،لہذا ہمیشہ ہی اورخصوصًا اس زمانہ میں سنی مسلمان سرمنڈانے کی عادت سے بچیں۔
|
445 -[16] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يتَوَضَّأ بعد الْغسْل. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ) |
۱؎ کیونکہ غسل سے پہلے وضو فرمالیتے تھے،وہ وضو نماز کے لئے کافی ہوتا تھا،بلکہ اگر کوئی شخص بغیر وضو کئے بھی غسل کرے اور پھر نماز پڑھ لے تو جائز ہے،کیونکہ طہارت کبریٰ کے ضمن میں طہارت صغریٰ بھی ہوجاتی ہے اور بڑے حدث کے ساتھ چھوٹا حدث بھی جاتا رہتا ہے۔
|
446 -[17] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ وَلَا يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر شریف ناپاکی کی حالت میں خطمی سے دھوتے اسی پر کفایت کرتے ۱؎ کہ سر پر پانی نہ ڈالتے۲؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع