30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ غسل کی ترتیب یہ ہوئی کہ پہلے ہاتھ دھوئے جائیں،پھر استنجاء،پھر وضو کیا جائے،پھر جسم پر بہایا جائے۔چونکہ کچی زمین پر غسل فرمایا تھا اس لیے وضوء کے ساتھ پاؤں نہ دھوئے بلکہ بعد میں دھوئے اگر پختہ زمین پر غسل ہو تو پاؤں پہلے دھولیے جائیں۔خیال رہے کہ یہاں مسح سر کا ذکر نہیں یا تو حضور نے مسح کیا ہی نہیں کیونکہ سر کے دھلنے میں مسح بھی ہوجاتا ہے،یا مسح کیا تھا مگر ذکر نہیں لہذا یہ حدیث پہلی حدیث کے خلاف نہیں جس میں مسح کا ذکر ہے۔
۴؎ یا اس لئے کہ کپڑا صاف نہ تھا یا آپ جلدی میں تھے،یا وقت گرمی کا تھا،جسم کی تری اچھی معلوم ہوتی تھی،یا اس لئے کہ غسل و وضو کا پانی نہ پونچھنا افضل۔بہرحال اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پونچھنا ممنوع ہے کیونکہ پچھلی روایتوں میں پونچھنے کا ثبوت بھی ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ وضواورغسل کے بعدجسم پر جو تری رہ جاتی ہے وہ ماءمستعمل نہیں۔
|
437 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيضِ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِل قَالَ: «خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا» قَالَت كَيفَ أتطهر قَالَ «تطهري بهَا» قَالَت كَيفَ قَالَ «سُبْحَانَ الله تطهري» فاجتبذتها إِلَيّ فَقلت تتبعي بهَا أثر الدَّم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انصار کی ایک بی بی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں بتایا کہ یوں غسل کریں پھر فرمایا کہ مشک کا ٹکڑا لے کر اس سے پاک کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کروں فرمایا اس سے پاکی کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کرو فرمایا سبحان اﷲ! اس سے پاکی کرو ۱؎ تو انہیں میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ خون کی جگہ ٹکڑا لگاؤ ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ خفیہ مسائل کے متعلق تعلیم اشاروں کنایوں سے چاہیئے،خصوصًا اجنبی عورتوں کے سامنے کہ ان بی بی صاحبہ کے بار بار پوچھنے پربھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملہ کی وضاحت نہ فرمائی۔مقصد یہ تھا کہ غسل کرنے کے بعد مشک کا ٹکڑایامشک میں بھیگے ہوئے کپڑے کا ٹکڑا وہاں پھیر لیں جہاں خون پہنچتا ہے تاکہ خون کی بوجاتی رہے۔بعض نسخوں میں مُمَسَّك بھی ہے یعنی مشک میں بسا ہوا کپڑا۔
۲؎ سبحان اﷲ! اس سے حضرت عائشہ صدیقہ کی ذہانت معلوم ہوئی کیوں نہ ہو کہ مزاج شناس رسول ہیں،بڑی فقیہہ عالمہ ہیں۔
|
438 -[9] وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله إِنِّي امْرَأَة أَشد ضفر رَأْسِي فأنقضه لغسل الْجَنَابَة قَالَ «لَا إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی عورت ہوں جو اپنے سر کے بال گوندھتی ہوں تو کیا جنابت کے غسل کے لیئے انہیں کھولا کروں فرمایا نہیں تمہیں یہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لیا کرو۔پھر اپنے پر پانی بہالیا کروتوپاک ہوجاؤ گی ۱؎ (مسلم) |
۱؎ اسی بناء پرفقہاءفرماتے ہیں کہ عورت پرغسل میں سارے بال بھگونا فرض نہیں تمام کی جڑیں بھیگ جانا کافی ہیں۔اگر مرد کے بال ہوں تو پورے بھگونے پڑیں گے۔تین بار کی قید یقین حاصل کرنے کے لیے ہے ورنہ اگر ایک لپ سے ہی تمام جڑوں میں پانی پہنچ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع