30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
435 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن عَائِشَةُ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلْ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ ثمَّ يصب على رَأسه ثَلَاث غرف بيدَيْهِ ثمَّ يفِيض المَاء على جلده كُله وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَاله فَيغسل فرجه ثمَّ يتَوَضَّأ |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کا غسل کرتے تو یوں شروع کرتے کہ پہلے دونوں ہاتھ دھوتے ۱؎ پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ۲؎ پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈالتے تو ان سے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے پھر اپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین چلو ڈالتے۔پھر اپنی تمام کھال پر پانی بہاتے۳؎(مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے کہ یوں شروع کرتے کہ برتن میں ڈالنے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوتے پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے پھر استنجاء کرتے پھروضو فرماتے۴؎ ۔ |
۱؎ خیال رہے کہ انبیاءکرام کو احتلام کبھی نہیں ہوتا جیسا کہ طبرانی میں روایت میں ہے ان کی جنابت صرف صحبت سے ہوتی ہے۔یہ ہاتھ کا دھونا وضو سے پہلے ہے کیونکہ وضو کا ذکر آگے آرہا ہے۔چونکہ اس زمانہ میں عمومًا بڑے برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی لیا جاتا تھا،اس لئے یہاں ہاتھ دھوئے جاتے تھے،نیز ہاتھ میں گندگی کا بھی احتمال ہوتا ہے۔
۲؎ کہ اگرتختہ وغیرہ پر ہوتے تو پاؤں بھی دھولیتے اور اگر کچی زمین پر ہوتے تو پاؤں غسل کے بعد دھوتے۔
۳؎ زلفوں والے آدمی کے لئے اب بھی سنت ہے کہ پہلے زلفوں کا خلال کرے اور سرکو دھوئے،پھرتمام جسم کے ساتھ بھی سر پر پانی ڈالے۔
۴؎ اس سےمعلوم ہوا کہ غسل سے پہلے استنجا کرنا بھی سنت ہے۔
|
436 -[7] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شَمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَأَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ فَانْطَلق وَهُوَ ينفض يَدَيْهِ. وَلَفظه للْبُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت میمونہ نے ۱؎ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے غسل کا پانی رکھا پھر میں نے آپ کو کپڑے سے آڑکردی۲؎ اور آپ نے اپنے ہاتھوں پر پانی بہایا پھر انہیں دھویاپھرہاتھوں پربہایاپھر انہیں دھویاپھر داہنے ہاتھ سے بائیں پرپانی ڈالااوراستنجا کیاپھراپنا ہاتھ زمین پر مارا انہیں صاف کیا پھر اسے دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیااوراپنا منہ اورکہنیوں تک ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر پر پانی بہایا اور اپنے تمام جسم پر بہایا۳؎ پھر وہاں سے ہٹ گئے اوراپنے قدم شریف دھوئے میں نے کپڑا پیش کیا قبول نہ فرمایا ۴؎ اور ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے۔(مسلم،بخاری) اور اس کے لفظ بخاری کے ہیں۔ |
۱؎ آپ کا نام میمونہ بنت حارث ہلالیہ عامریہ ہے،پہلے آپ کا نام برہ تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے نام تبدیل فرمایا،زمانہ جاہلیّت میں مسعود ابن عمرو ثقفی کے نکاح میں تھیں،اس کے بعد ابو رہم کے نکاح میں آئیں،ان کے فوت ہوجانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذیقعدہ ۷ھ میں عمرہ ٔقضاء کے موقع پر مکہ معظمہ سے دس میل دور مقام سرف میں آپ سے نکاح کیا،اﷲ کی شان کہ ۶۱ھ میں نکاح کی جگہ ہی آپ کی وفات ہوئی،آپ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیوی ہیں،جن کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے نکاح نہیں کیا۔ام الفضل یعنی عبداﷲ ابن عباس کی والدہ اور اسماء بنت عمیس کی آپ ہمشیرہ ہیں،یعنی عبداﷲ ابن عباس کی خالہ۔
۲؎ اگرچہ آپ تہبند باندھ کر غسل فرماتے تھے لیکن پھر بھی آپ چادرتان کر سامنے کھڑی ہوگئیں زیادتی ستر کے لیے۔لہذا چاہیئے یہ کہ تہبند باندھ کر غسل میں نہائے،بعض نے کہا کہ اس کے معنی ہیں پانی کو ڈھک دیا،مگر یہ درست نہیں۔(مرقاۃ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع