30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں اور نہ امام شافعی کی مُؤیّد کیونکہ وہ بھی ہر نماز کے لئے مسواک مستحب مانتے ہیں اوریہاں فرضیت کا ذکر ہے،نیز بعد میں یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دفعہ ایک وضو سے چند نمازیں پڑھیں اور ہر نماز کے لیے مسواک نہ کی۔خلاصہ یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم پراولًا ہر نماز کے لئے وضو فرض تھا،پھرمسواک فرض رہی،پھر وہ بھی منسوخ ہوگئی۔
۶؎ انہوں نے سمجھا کہ فرضیت منسوخ ہوگئی مگر استحباب باقی ہے اور یہ صحیح تھا اب بھی اگرکوئی اس پرعمل کرے ثواب ہوگا۔
|
427 -[37] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: «مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ» . قَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد پرگزرے جب وہ وضو کررہے تھے تو فرمایا اے سعد یہ اسراف کیسا(فضول خرچی)عرض کیا کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟فرمایا ہاں۔اگرچہ تم بہتی نہر پر ہو ۱؎ (احمدوابن ماجہ) |
۱؎ حضرت سعدیاتو ضرورت سے زیادہ پانی بہارہے تھے،یابجائے تین کے چارپانچ باراعضاء دھورہے تھے،یا اعضاءکی حدود میں زیادتی کررہے تھے ان سب سے منع فرمادیا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ وضو میں یہ تمام باتیں منع ہیں اوران کاکرنا جرم۔
|
428 -[38] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَوَضَّأَ وَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُطَهِّرُ جَسَدَهُ كُلَّهُ وَمَنْ تَوَضَّأَ وَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ الله لم يطهر إِلَّا مَوضِع الْوضُوء» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ وابن مسعود وابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو وضو کرے اور اﷲ کا نام لے تو وضو اس کے سارے جسم کو پاک کردیتا ہے اور جو وضو کرے اور اﷲ کا نام نہ لے تو صرف وضو کی جگہ ہی کو پاک کرتا ہے ۱؎ |
۱؎ یہاں گناہ سے پاکی مراد ہے یعنی وضو کے اول میں بسم اﷲ پڑھ لینے کی برکت سے سارے جسم کے بیرونی اوراندرونی گناہ معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ جسم میں دل اور دماغ بھی داخل ہے۔بسم اﷲ نہ پڑھنے سے ظاہری اعضاء کے گناہ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں اسی لئے فقہا فرماتے ہیں بسم اﷲ سے وضو شروع کرنا سنت ہے۔
|
429 -[39] وَعَن أبي رَافع قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الصَّلَاةِ حَرَّكَ خَاتَمَهُ فِي أُصْبُعه. رَوَاهُمَا الدَّارَقُطْنِيّ. وروى ابْن مَاجَه الْأَخير |
روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیئے وضو کرتے تو اپنی انگلی کی انگوٹھی کو ہلاتے تھے ۱؎ ان دونوں کو دارقطنی نے روایت کیا اور ابن ماجہ نے اخیرکو۔ |
۱؎ انگوٹھی اگر تنگ ہو کہ بغیر ہلائے اس کے نیچے پانی نہ پہنچے تو وضو میں اس کا ہلانا فرض ہے اور اگر ڈھیلی ہو کہ بغیر ہلائے بھی نیچے پانی پہنچ جائے تو اس کا ہلانا مستحب ہے،یہ حدیث دونوں کو شامل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع