30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ آپ محمد ابن علی یعنی(زین العابدین)ابن حسین ابن علی ہیں۔رضوان اﷲ علیم۔لقب امام باقر یعنی علم کو چیرنے والے،کنیت ابو جعفر،مدینہ منورہ کے عظیم الشان فقیہ اور بڑے محدث ہیں۔امام زین العابدین،عبداﷲ ابن عمر اور حضرت جابر سے بے شمار احادیث لی ہیں۔عظیم الشان تابعی ہیں،ولادت شریف ۵۶ میں ہوئی،۶۳ سال عمر شریف پائی، ۱۱۸ ھ میں مدینہ منورہ میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں مزار پر انوار ہے۔فقیر نے زیارت کی ہے۔
۳؎ حدیث لینے کے تین طریقے ہیں:ایک یہ کہ شاگرد پڑھے استاد سنے۔دوسرے یہ کہ استاد پڑھے شاگرد سنے۔تیسرے یہ کہ شاگرد حدیث کے الفاظ عرض کرکے پوچھے کہ کیا یہ حدیث آپ نے روایت کی ہے؟ استاد کہے ہاں،یہاں تیسری قسم کی روایت ہے۔مطلب یہ ہے کہ حضور نے وضوء کے اعضاءکبھی ایک ایک بار دھوئے،کبھی دو دو بار،کبھی تین تین بار۔
|
423 -[33] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ: هُوَ «نُورٌ عَلَى نُورٍ» |
روایت ہے حضر ت عبداﷲ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو بار وضو کیا اورفرمایاکہ یہ نور پرنورہے ۱؎ |
۱؎ یعنی اعضائے وضو دو دو بار دھوئے اور اسے نور پر نور قرار دیا کیونکہ ایک بار دھونا فرض ہے،دوسری بار سنت،فرض بھی نور ہے اور سنت بھی،یعنی قیامت میں مسنون عمل کرنے والوں کا نوربہت تیزہوگا،لہذا جو تین تین بار اعضاء دھوئیں گے وہ بھی افضل ہیں۔
|
424 -[34] وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَقَالَ: «هَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي وَوُضُوءُ إِبْرَاهِيمَ».رَوَاهُمَا رَزِينٌ وَالنَّوَوِيُّ ضَعَّفَ الثَّانِي فِي شرح مُسلم |
روایت ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کیااورفرمایا کہ یہ میرا اورمجھ سے اگلے نبیوں کا وضو ہے اورحضرت ابراہیم کا وضو ہے ۱؎ ان دونوں حدیثوں کو رزین نے روایت کیانووی نے شرح مسلم میں دوسری کو ضعیف بتایا۔ |
۱؎ اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے: ایک یہ کہ وضو اسلام کے ساتھ خاص نہیں،پہلی امتوں میں بھی تھا،ہاں چہروں کی چمک اس امت کی خصوصیات سے ہے۔دوسری یہ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی وضو کیا کرتے تھے۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابراہیم وسارہ نے وضو کیا اور نماز پڑھی اور جریج اسرائیلی نے وضوکیااورنماز پڑھی۔غرض کہ وضوء بڑی پرانی سنت ہے۔تیسرے یہ کہ تین تین بار اعضائے وضو دھونا بہت افضل ہے کیونکہ سنت انبیاءہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ایک یادوباراعضاءدھونابیان جوازکے لیے ہے۔
|
425 -[35] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ أَحَدُنَا يَكْفِيهِ الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ. رَوَاهُ الدِّرَامِي |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ۱؎ اورہم کو ایک ہی وضواسوقت تک کافی ہوتا جب تک بے وضو نہ ہوتے۲؎ (دارمی) |
۱؎ مرقاۃ نے فرمایا کہ اولًا حضور پر ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض تھا،پھر یہ فرضیت منسوخ ہوئی جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے یہ اس وقت کا ذکر ہے۔اورہوسکتا ہے کہ فرضیت کے منسوخ ہونے کا بعد کا ذکر ہوا اوراکثری حال مراد ہو،یعنی حضور اکثر ہر نماز کے لیے وضو فرمالیتے تھے۔اس آیت کے ظاہر پر عمل فرماتے ہوئے"اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا"الایہ۔اب بھی ہر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع